Al-Risala · September 2010 · page 21

چھٹا دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

ہو جائیں گے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بالفعل پیش آرہا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور میں آنے کے بعد ساری دنیا میں مختلف صورتوں سے اسلام کے پیغام کی اشاعت ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے پبلشر اسلام کا لٹریچر چھاپ کر پھیلا رہے ہیں، اور ٹی وی کے بڑے بڑے ادارے اسلام کے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ سیمیناروں اور کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا میں ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر اسلام کا چرچا ہو رہا ہے، وغیرہ۔

کلمۂ اسلام کی اشاعت کا دوسرا ذریعہ امتِ محمدی ہے۔ امتِ محمدی کے افراد جدید معیار پر اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیں گے۔ اس دور میں امت کا ایک منتخب گروہ خصوصی طور پر اشاعتِ اسلام کے اس عمل کی توفیق پائے گا۔ غالباً یہی وہ گروہ ہے جس کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ (صحیح مسلم، کتاب الطهارۃ) کا لفظ دیا گیا ہے۔

پانچویں دور میں اعلیٰ معرفت کے حصول کی طرف قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ یہ اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے: سنریہم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدة (53) یعنی آئندہ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور نفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر بخوبی یہ امر واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جدید سائنس کی اُن دریانتوں کی طرف اشارہ ہے جو خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سامنے آئی ہیں۔ یہ دریافتیں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین الہیٰ کی دریافت ہیں۔ ان دریافتوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ (scientific criterion) پر خدائی سچائی کو مدلل کیا جا سکے۔

چھٹا دور

معرفتِ الہیٰ کا چھٹا دور آخرت کا دور ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں ۔ قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعد کا دور۔ قیامت سے پہلے کا دور عارضی دور حیات ہے۔ اور قیامت کے بعد کا دور حیات ابدی دور حیات ۔ قیامت سے پہلے کے دور میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page