Al-Risala · January 2010 · page 43

Belief in God hardwired in our brain

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۳

سوار ہوئے۔ یہ جہاز وارسا سے زیورک جانے والا تھا۔ وارسا سے زیورک کا جہاز کسی وجہ سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا۔ یہ ہمارے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ کیوں کہ زیورک ائر پورٹ پر اگلے جہاز کا وقت اس طرح تھا کہ جب یہ جہاز وہاں پہنچے گا تو اُس وقت وہ جہاز زیورک سے دہلی کے لیے روانہ ہو چکا ہوگا۔ لیکن اس موقع پر ہم لوگوں کے ساتھ خدا کی خصوصی مدد ہوئی۔ زیورک پہنچنے پر معلوم ہوا کہ زیورک سے دہلی جانے والا جہاز آدھ گھنٹہ لیٹ تھا۔ اس تاخیر کی بنا پر ہم لوگوں کو زیورک ائر پورٹ پر مزید رکنا نہیں پڑا اور آسانی سے اگلا جہاز مل گیا۔ زیورک ائر پورٹ پر جب ہم کو یہ بات بتائی گئی تو ہمارے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ادا کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دہلی سے چلتے ہوئے میں نے دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) کی جو دعا کی تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ ہمیں زیورک میں اگلا جہاز آسانی کے ساتھ مل گیا۔ زیورک ائر پورٹ کی ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہاں ہمیں ائر پورٹ کی لمبی دوری طے کر کے فوراً جہاز تک پہنچنا تھا۔ اس کے لیے مجھے یہاں ایک خصوصی وہیڈ چیر فراہم کی گئی۔ شروع میں ہماری وہیڈ چیر ائر پورٹ کی ایک خاتون چلا رہی تھیں۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چلا رہی تھیں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا اور اندرہی اندر دعا کر رہا تھا۔ اتنے میں ائر پورٹ کے عملے کا ایک مرد آگیا اور تیزی سے وہیڈ چیر کو دوڑاتے ہوئے جہاز کے دروازے تک پہنچادیا۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں بھی ائر پورٹ کے عملے کے لوگوں کو دعوتِ لٹریچر دیا۔

زیورک سے دہلی کا یہ سفر 8 گھنٹے کا تھا۔ اس دوران سوئس انٹرنیشنل ائر لائنز (Swiss International Air Lines) کا فلائٹ میگزین (Swiss Universe) دیکھنے کو ملا۔ یہ میگزین دوزبانوں میں تھا—سوئس اور انگلش۔ 96 صفحے کے اس میگزین میں صرف تین موضوعات شامل تھے—فیشن، بزنس، ٹریویل۔ اس کے دو صفحے میں خریداری کے لیے عورتوں کا چوائس اور مردوں کا چوائس الگ الگ بتایا گیا تھا۔ مردوں کا چوائس (Men’s Choice) خاص طور پر تین چیزیں تھیں— (Ladies’ Choice) motorbike، bicycle، cellphone۔ اس کے برعکس، عورتوں کا چوائس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page