Al-Risala · January 2010 · page 44

Belief in God hardwired in our brain

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۴

White-gold necklace, White-gold ring, Rose-gold watch — یہ بتایا گیا تھا۔ قرآن میں عورتوں کے بارے میں آیا ہے: أو من يُنَشَّأ في الحِلية (الزُّخرف: 18) یعنی عورت آرائش میں پرورش پاتی ہے۔ فلائٹ میگزین کے مذکورہ صفحے کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ قدیم عورت کی جو نفسیات تھی، وہی جدید عورت کی بھی نفسیات ہے۔

وارسا کے لاؤنج میں کچھ اخبارات مطالعے کے لیے موجود تھے۔ اُن میں سے ایک لندن کا اخبار ٹائمس (The Times) تھا۔ یہ اخبار 90 صفحات پر مشتمل تھا۔ اخبار کے صفحہ 15 کی ایک سرخی تھی— مسجد پر اسلام مخالف مظاہرہ کی صورت میں تشدد کا اندیشہ:

Violence fears as anti-Islam protest targets mosque خبر میں بتایا گیا تھا کہ کچھ شدت پسند عناصر 11 ستمبر 2001 کے واقعے کو لے کر لندن کی سنٹرل مسجد (Harrow Central Mosque) پر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس بنا پر یہ اندیشہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے موقع پر مظاہرین اور مسلمانوں کے درمیان تصادم (clash) ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس قسم کے مظاہرے کا صحیح جواب یہ ہے کہ اس کا جواب ہی نہ دیا جائے- ایسے مواقع پر یہ دراصل جوابی ردعمل ہے جو مسئلہ پیدا کرتا ہے، نہ کہ خود عمل۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا ۔ أميتوا الباطل بالصّمت عنه (باطل کا خاتمہ کرو، اس کے معاملے میں چپ رہ کر)

اخبار کے صفحہ 32 پر کچھ اقوال نقل کئے گئے تھے۔ اُن میں ایک قول یہ تھا — اپنے بچوں کو دیانت کی تعلیم دینے سے پہلے، ہمیں دنیا کو دیانت دار بنانا ہوگا :

‘We must make the world honest, before we can honestly say to our children that honesty is the best policy’. George Bernard Shaw برنارڈ شا کا یہ قول ایک دل چسپ قول ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک غیر عملی بات ہے۔ دنیا کے تمام لوگوں کو دیانت دار بنانا ایک غیر عملی منصوبہ بنانا ہے۔ اس قسم کا آئیڈیل سماج اس دنیا میں کبھی نہیں بن سکتا۔ لیکن افراد کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو بقدراِمکان دیانت دار

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page