Al-Risala · September 2010 · page 35

ٹینشن کے مسئلے کا حل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵

ٹینشن کے مسئلے کا حل

خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب (وفات: 661ء) ایک بلند پایہ صحابی رسول ہیں۔ اُن کے بہت سے حکیمانہ اقوال مشہور کتاب ”نہج البلاغہ“ میں مذکور ہیں۔ ان کا ایک قول یہ ہے: الخير فيما وقع، یعنی خیر اُسی میں تھا جو واقع ہوا:

Whatever happened, happened for good.

ہر عورت اور مرد کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، کوئی ایسا تجربہ گزرتا ہے جو ہمارے لیے غیر مطلوب تھا۔ ایک طرف یہ تجربہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ہم کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اس صورتِ حال کو بدلنا بظاہر ہمارے بس میں نہیں۔

یہی وہ ناخوش گوار صورتِ حال ہے جو لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا کرتی ہے اور لوگوں کو ٹینشن یا اسٹریس میں مبتلا کردیتی ہے۔

مذکورہ قول اس مسئلے کا سادہ حل ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ ہوا، وہ محکم قانونِ فطرت کے تحت ہوا۔ اور جو واقعہ وسیع تر قانونِ فطرت کے تحت پیش آئے، وہ یقیناً مجموعی خیر کے لیے ہوا ہے، اور جو چیز مجموعی خیر کے تحت ہو، ہمارا انفرادی خیر بھی بہرحال اس میں شامل ہوگا۔ ”جو ہوا وہی خیر تھا“ کا مطلب یہ ہے کہ جو ہوا، وہی ممکنہ طور پر بہتر تھا۔ اسباب و علل کی اس دنیا میں اس کے سوا کسی اور چیز کا امکان ہی نہ تھا۔ یہی حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر ہے۔ یہ واحد نقطۂ نظر ہے جو کسی عورت یا مرد کو ٹینشن سے بچا سکتا ہے۔ یہی واحد نقطۂ نظر کسی عورت یا مرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں پرسکون ذہن (peaceful mind) کے ساتھ رہ سکے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی دوسرا فارمولا یا تو قابلِ عمل نہیں یا وہ صرف ایک وقتی قسم کا نفسیاتی ریلیف (temporary relief) دیتا ہے، نہ کہ اصل مسئلے کا کوئی واقعی حل۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن ایک فکری مسئلہ ہے اور فکری سطح کی تدبیر کے ذریعے ہی اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page