جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۹
علاقے میں 18 بڑے مسلم کالج قائم کئے گئے ہیں جن کو حکومت کا گرانٹ حاصل ہے۔ یہ تمام مسلم کالج نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ملت کی تعمیر کا کام موثر طور پر صرف اُس وقت ہوسکتا ہے جب کہ اُس کو سیاست سے الگ رکھ کر کیا جائے۔ مولانا نامنا کا سعید احمد عمری نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانی (وفات: 1956) نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ کالجوں میں تعلیم پانے والے مسلم طلباکے لیے شہروں میں مسلم ہاسٹل بنائے جائیں۔ یہاں ان کی رہائش کا انتظام ہو اور اسی کے ساتھ ان کی دینی تربیت کی جائے۔ شمالی ہند میں سیاسی ذہن کی بنا پر اس قسم کا کوئی ہاسٹل نہ بن سکا، مگر جنوبی ہند کے مسلمانوں میں چوں کہ سیاسی ذہن نہیں تھا بلکہ تعمیری ذہن تھا، اس لیے انھوں نے جنوبی ہند میں اس طرح کے مسلم ہاسٹل بنائے ۔ مثلاً حیدر آباد میں اور بنگلور میں۔ بنگلور کا ہاسٹل زیادہ بڑا ہے اور اس کا نام یہ ہے۔ بنگلور مسلم سنٹرل ہاسٹل۔ اس مجلس میں جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسلم دنیا میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں کہ : أمريكا عدو الإسلام رقم واحد۔ میں نے کہا کہ میں 13 بار امریکا گیا ہوں، اور اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نہ پرو مسلم (pro-Muslim) ہے، اور نہ اینٹی مسلم (anti-Muslim)۔ وہ صرف پروامریکا (pro-America) ہے۔ امریکا میں بلا امتیاز ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ چناں چہ مسلمان اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں بڑے بڑے اسلامی کام کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ مگر یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس وقت اسلام کی خدمت کے جتنے مواقع امریکا میں ہیں، وہ غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں۔ کا سعید احمد عمری نے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہا کہ میں آپ کی اس بات سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔ مجلس میں گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا امریکا کی ترقی کا راز یہ ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ذہن رکھنے والے افراد کو امریکا خرید لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ خرید وفروخت کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues