Al-Risala · October 2010 · page 10

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰

مواقع (opportunities) کی فراہمی کی بات ہے۔ امریکا نے یہ کیا کہ اُس نے وہاں ہر قسم کے اعلیٰ مواقع فراہم کر دیے_ اظہارِ خیال کی مکمل آزادی، مطالعے کے لیے بہترین لائبریریاں، لیاقت کا بلا امتیاز اعتراف، ترقی کے مواقع کو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھولنا، وغیرہ۔ اِس بنا پر تمام دنیا کے ذہین لوگ وہاں پہنچ گئے_ 7 جون 2010 کو عشاء کی نماز جامعہ دارالسلام کی قدیم مسجد (1344/1925 ھ) میں ادا کی گئی_ نماز کے بعد مسجد میں یہاں کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی_ ان میں سے ایک جامعہ کے شیخ التفسیر مولانا سید عبد الكبير عمری صاحب تھے_ ان کی پیدائش 1923 میں ہوئی_ انھوں نے جامعہ دارالسلام میں تعلیم پائی، پھر وہ یہیں استاد کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں_ معمر ہونے کے باوجود وہ ابھی تک پوری طرح صحت مند ہیں_ نماز کے بعد ہم لوگوں کو کا کا سعید احمد عمری کے گھر لے جایا گیا جو عمر آباد میں مسجد کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہاں شام کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کی میز پر تقریباً 10 آدمی موجود تھے۔ کھانے کے بعد یہاں دیر تک نشست ہوئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔

مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو آپ کا مسلک معلوم ہے۔ آپ کے مسلک سے اتفاق کی بنا پر ہی ہم نے جامعہ میں آپ کو دعوت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجموعی اتفاق ہی کا نام اتفاق ہے۔ جزئی اختلافات تو ہر جگہ اور ہر شخص کے اندر پائے جاتے ہیں۔

مولانا فیاض الدین عمری نے کہا کہ میں اس کی تائید کروں گا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تشدد بالکل نہیں پایا جاتا۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جامعہ کے سینئر استاد ڈاکٹر عبد اللہ جوم صاحب سے بدایۃ المجتہد پڑھی ہے۔ مولانا اگر چہ سلفی ہیں، مگر دلیل کی موجودگی میں انھوں نے ہمیشہ ائمہ کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ اور کبھی اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا بھی اظہار فرمایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ کے ذمے داران مسلک کے اعتبار سے اگر چہ سلفی ہیں، لیکن جامعہ کی قدیم

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page