Al-Risala · October 2010 · page 11

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱

مسجد میں وہاں کے امام ایک حنفی ہیں۔ جامعہ کے اندر لمبی مدت گزارنے کے باوجود ہم کو بہت سے اساتذہ کا مسلک معلوم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں کے ذمے داران ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے رائے لیتے ہیں اور ان کو آگے بڑھاتے ہیں۔

گفتگو کے دوران کا کا سعید عمری صاحب نے کہا کہ عام طور پر لوگ دوستوں کو حق تنقید دیتے ہیں، مگر وہ اجنبی آدمی کو حق تنقید نہیں دیتے ۔ اگر کوئی اجنبی آدمی ان پر تنقید کر دے تو وہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے علاوہ، اجنبی لوگوں کو بھی حق تنقید دے۔ وہ ایک اجنبی آدمی کی بات کو بھی اُسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے دوستوں کی بات کو سنتا ہے۔ کا کا سعید احمد عمری نے گفتگو کے دوران کہا کہ جامعہ دارالسلام کا نشانہ بنیادی طور پر صرف دو چیزیں ہیں ـــ دعوت، اور آخرت ـــ دعوت برائے آخرت اور آخرت برائے دعوت، یہی جامعہ کا اصل نشانہ ہے۔ اس سلسلے میں طلبہ جامعہ کے سامنے کا کا سعید احمد عمری کے ایک بصیرت افروز خطاب کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”اس وقت ہم علما ء کرام کو اپنی دعوتی ذمے داری کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہم برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں، انھیں اپنی محبت کا موضوع بنائیں، اپنی تقریبات میں انھیں مدعو کریں اور جب بھی، جہاں بھی موقع ملے، اُسے غنیمت جان کر اسلام کا پیغام ان کی خدمت میں پیش کرنے ، انھیں اسلام کا صحیح تعارف کرانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے امت کو برادران وطن کے ساتھ نفرت کرنا ہی سکھایا ہے، اُن سے محبت کرنا نہیں سکھایا۔ برادرانِ وطن ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ہم اُن کے ساتھ محبت سے پیش نہیں آئیں گے، ذرا سوچیئے، اُس وقت تک وہ ہماری باتوں پر کیسے توجہ دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُنھیں ابدی جہنم سے بچانے کی فکر اور تڑپ ہمارے دل میں کیسے پیدا ہوگی‘‘۔ (ماہ نامہ راہ اعتدال، عمر آباد، جون 2010، صفحہ 51) 7 جون 2010 کی شام کا کھانا اس انداز کا تھا جس کو عام طور پر ’’پر تکلف عشائیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعد کو میں نے یہاں کے منتظمین سے کہا کہ میں اس قسم کے کھانے کا عادی نہیں ہوں ۔ میں یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page