جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
جب تک ہوں، میں صرف جامعہ کے مطبخ (مطعم) کا کھانا کھاؤں گا، یعنی وہ کھانا جو جامعہ کے طلبا کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے کھانے کا ٹائم بھی وہی ہوگا جو جامعہ میں عام طور پر طلبا کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے۔ چناں چہ جب تک میں یہاں رہا، مطبخ کا کھانا کھاتا رہا۔ یہ کھانا بالکل سادہ تھا اور میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔
مولانا اسرار الحسن عمری جو یہاں ہم لوگوں کے کھانے وغیرہ کے ذمے دار تھے، انھوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح کو مجھے جامعہ کے دفتر میں بلایا گیا۔ نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کھانے وغیرہ کا کیا انتظام ہے۔ میں نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ میں جب تک جامعہ میں ہوں، مطبخ کا کھانا کھاؤں گا۔ میرے لیے الگ سے کوئی اہتمام نہ کیا جائے ۔ میری بات سن کر نائب ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ : Fekl مشكلة حلت (پھر تو ساری مشکل آسان ہوگئی)۔ کیوں کہ مہمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کھانے کا ہوتا ہے۔ کا کا سعید احمد عمری صاحب کے گھر سے کھانا کھا کر ہم لوگ واپس جامعہ کے کیمپس میں آگئے۔ یہاں کئی علماء کے ساتھ میں دیر تک جامعہ کی کھلی فضا میں واک (walk) کرتا رہا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ذکر کے بارے میں ارشاد ہوا ہے : الذین یذکرون الله قياماً وقعوداً وعلى جنوبهم (3:191) ۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے تجربے کے مطابق ، اس میں ایک اور ذکر کا اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے واکنگ ذکر (walking zikr)۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ واک کرتا ہوں۔ مگر میری واک صرف واک نہیں ہوتی، بلکہ وہ وانگ ذکر ہوتی ہے۔ ذکر کیا ہے ۔ ذکر دراصل تفکر کا نام ہے۔ سلف صالحین نے ذکر کا یہی مطلب بتایا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو علامہ ابن قیم (وفات: 751ھ) کی کتاب: مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة۔ علامہ ابن قیم نے اس کتاب میں تذکر اور تفکر کو ہدایت کی اصل قرار دیا ہے (التفکر والتذكر أصل الهدی والفلاح، هما قطبا السعادة) ۔ تفکر کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مثلاً یہاں آپ جامعہ کے کیمپس میں واک کر رہے ہیں۔ یہاں چاروں طرف
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues