Al-Risala · October 2010 · page 13

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳

سرسبز درخت کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے درخت کو دیکھا۔ آپ کو یاد آیا کہ درخت اپنے اندر ایک انوکھی صفت رکھتا ہے، وہ یہ کہ وہ ایک نمو پذیر وجود (growing entity) ہے۔ درخت کے بارے میں اس طرح سوچتے ہوئے آپ کو یاد آیا کہ ایمان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایمان بھی ایک نمو پذیر حقیقت ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ اسی لیے قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (14:24)۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ درخت کی نمو پذیری قانونِ فطرت کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان خود اپنے ارادے کے تحت غور و فکر کرتا ہے اور اس طرح وہ خود اپنے ارادے کے تحت اپنے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ واک کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ (مکتبہ عمر) پر آگئے۔ یہاں کمرے میں دوبارہ تقریباً 10 علماء اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک دینی اور دعوتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس وقت ایک بات میں نے کہی کہ جو لوگ صرف عوام کے درمیان کام کرتے ہیں، عام طور پر ان کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ لیکن جو لوگ خواص کے درمیان دعوتی کام کریں، ان کا مسلسل ذہنی ارتقا ہوتا رہتا ہے۔ گویا کہ عوام کے درمیان دعوتی کام یک طرفہ نوعیت کا کام ہے، یعنی ایک سننے والا ہے اور دوسرا سنانے والا۔ اس کے برعکس، خواص کے درمیان دعوتی کام دو طرفہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں ایک طرف مدعو کو نئی باتیں ملتی ہیں، اور دوسری طرف داعی کو ڈسکسن اور ڈائیلاگ کے دوران نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے — پہلا طریقہ اگر یک طرفہ تعلیم (unilateral learning) پر مبنی ہے، تو دوسرا طریقہ دو طرفہ تعلم (bilateral learning) پر مبنی۔

اسی طرح میں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں چار قابلِ انعام گروہوں کا ذکر آیا ہے: مع الذین أنعم الله عليهم من النبيين ، والصديقين، والشهداء، والصالحين (4:69)۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اس آیت میں انبیاء سے مراد پیغمبر ہیں، اور صدیقیق سے مراد اصحابِ پیغمبر، اور شہداء سے مراد دعاة کا گروہ ہے۔ صالحین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیے قرآن میں دوسری جگہ مقتصد (35:32) کا لفظ آیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ معرفت کے تمام درجات اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page