Al-Risala · October 2010 · page 14

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴

نوعیت کے اعتبار سے آج بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ اعلیٰ درجہ بھی جس کے بارے میں حدیث میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: عباد ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5، صفحه 341)۔ انبیاء کے اس رشک کا سبب غالباً یہ ہوگا کہ جو درجۂ معرفت انبیاء نے فرشتہ جبرئیل کے ذریعے حاصل کیا، اُسی نوعیت کی معرفت یہ لوگ فرشتہ جبرئیل کے بغیر حاصل کرلیں گے۔ معرفت کا یہ حصول بعد کے زمانے میں اہل ایمان کے لیے سائنسی دریافتوں کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ دہلی کے مقابلے میں عمر آباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ دہلی میں درجۂ حرارت 41 ڈگری تھا، جب کہ یہاں کا درجۂ حرارت 31 ڈگری ہے۔ رات نہایت سکون کے ساتھ گزری۔ 8 جون 2010 کو فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ دارالسلام کے کیمپس کے اندر واقع مسجد سلطان میں پڑھی۔ یہ مسجد 1993 میں بنائی گئی۔ مسجد کافی وسیع اور سادہ تھی۔ عام روایت کے خلاف اس مسجد میں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ ایک مینار کا طریقہ مجھے پسند ہے۔ ایک مینار توحید کی علامت معلوم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page