Al-Risala · October 2010 · page 15

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

ہم لوگ نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ہر طرف فطرت (nature) کا ماحول تھا۔ جامعہ دارالسلام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ہر طرف سرسبز درخت دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کی تعمیر دراصل ایک وادی (valley) میں ہوئی ہے۔ اس کے بیرونی حصے میں دور تک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کے مغرب میں جو پہاڑی سلسلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو ’’کیش گرى‘‘ کہا جاتا ہے۔ جامعہ میں قیام کے دوران ہر وقت علماء کا ساتھ ہوتا تھا۔ اس واک کے دوران بھی کئی علماء ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ جامعہ کا یہ خوش منظر جائے وقوع دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بہت پہلے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا— فطرت کی آغوش میں۔ اس مضمون میں میں نے لکھا تھا کہ میری تمناؤں میں سے ایک تمنا یہ ہے کہ فطرت کے مناظر کے درمیان ایک دینی مرکز بنایا جائے ۔ یہ مرکز گویا کہ ہمارے افکار کا ایک عملی مظاہرہ ہوگا۔ یہاں جب خدا کی عظمت بیان کی جائے گی تو درخت اور پہاڑ اور آسمان اس کی عملی تصدیق کر رہے ہوں گے، اور چڑیاں اپنے بچے کے ساتھ اس کی ہم آواز بنی ہوئی ہوں گی ۔ اب جامعہ دارالسلام کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا خواب یہاں واقع بن چکا ہے۔ کیوں کہ جامعہ کا مقصد بھی تقریباً وہی ہے جس کو میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنا مشن بنا رکھا ہے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن ۔ ہماری اس واک کے دوران دوسرے علماء جامعہ کے علاوہ، جامعہ دارالسلام کے دونوں بڑے ذمے دار بھی موجود تھے— مولانا کا کا سعید احمد عمری، اور مولانا نا کا انیس احمد عمری۔ واک کرنے کے دوران میں نے ایک بات یہ کہی کہ یہاں آ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ دارالسلام دوسرے مدارس کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ مثلاً یہاں کی مسجد میں اکثر اوقات طلبا امامت کرتے ہیں۔ ہر نماز ایک الگ طالب علم پڑھاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ طلبا کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ تعلیم کے دوران تربیت بھی حاصل کرتے رہیں۔

مارننگ واک (morning walk) کے بعد ہم لوگ لائبریری کی عمارت کے باہر کھلی فضا میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page