Al-Risala · October 2010 · page 16

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

بیٹھ گئے۔ موسم بہت خوش گوار تھا۔ یہاں مولانا کا کا سعید احمد عمری اور مولانا ریاض موسی مالاباری کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ اور کئی دیگر علماء موجود تھے۔ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ مدارس کے ذے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔

میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ طلبہ کو لسانِ عصر میں مخاطب کیا جائے، ورنہ ان کا مائنڈ ایڈریس نہ ہوگا۔ یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ تعلیم دین کے کافی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں اور جدید انسان کے سامنے مؤثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔ میں نے کہا کہ الرسالہ مشن دراصل اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا میں یہ واحد مشن ہے جو اس فکری ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ 1959 میں ایک مشہور ہندوستانی عالم کی ایک کتاب چھپی۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لھا۔ میں نے اس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual dissatisfaction) کا کیس ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت 1976 سے اس بنیاد پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر اس میں تعقل پسندی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس کی کوئی مثال دیجیے، مگر وہ کوئی مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ جب تک آدمی کے پاس کوئی متعین مثال نہ ہو، اُس وقت تک اس طرح کا تبصرہ کرنا آدمی کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ دو چیزوں میں فرق نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page