Al-Risala · October 2010 · page 17

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷

نہیں کرتے۔ ایک ہے تعقل پسندی اور دوسری چیز ہے اسلوب جدید۔ معروف معنی میں، میں ہرگز تعقل پسند نہیں ہوں، البتہ میری تحریروں میں جدید اسلوب ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ دونوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ایک تعقل پسند انسان ہوں۔ حالاں کہ مجرد تعقل پسندی ایک غیر مطلوب چیز ہے اور اسلوب جدید بلا شبہہ عین مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔

میں نے کہا کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں— ایک یہ کہ عقل کو بذات خود صحیح اور غلط کا معیار سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ نقلی (traditional) طور پر ایک ثابت شدہ بات کی مزید تائید کے لیے عقل کا استعمال کیا جائے۔ عقل کا اس طرح تائیدی استعمال خود قرآن سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر جدید عقل پسند انسان یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ہر اعتبار سے کامل مساوات ہونا چاہیے۔ میں اس عقلی نقطۂ نظر کو نہیں مانتا۔ اس کے بجائے میں قرآن کے نقطۂ نظر کو مانتا ہوں جس میں عورت اور مرد کے درمیان فطری فرق کی بنا پر ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو معتبر قرار دیا گیا ہے (2:282)۔ قرآن کے اس نقطۂ نظر کی تائید کے لیے میں نے ایک سائنسی دلیل دی ہے۔ وہ یہ کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک نا قابل تغییر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طور پر سنگل ٹریک مائنڈ (single track mind) کا حامل ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طور پر ملٹی ٹریک مائنڈ (multi track mind) رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ ماہ نامہ الرساله (اپریل 2006، صفحہ 7) میں دیکھ سکتے ہیں۔

8 جون 2010 کی صبح کو جامعہ کے گُلّیہ ہال میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔ یہ یہاں کے زمانہ قیام کا پہلا پروگرام تھا۔ اس میں جامعہ کے شعبہ ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے دُعاۃ، طلبا اور جامعہ کے اساتذہ شریک ہوئے ۔ اس پروگرام کو کنڈکٹ کرنے کا کام جامعہ کے ایک نو جوان استاد مولانا عبد العظیم مدنی نے انجام دیا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: دعوت الی اللہ اور اس کے تقاضے یہاں میں نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کچھ باتیں کہیں ۔ اس کے بعد میں نے اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page