Al-Risala · October 2010 · page 18

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸

پروگرام میں جو مزید باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ سے میرا ایک فطری تعلق رہا ہے۔ جامعہ دارالسلام 1924 میں قائم ہوا، اور یہی وہ سال ہے کہ میری پیدائش ہوئی۔ جامعہ سے اسی بلا اعلان تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے اپنے پہلے فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو 1957 میں تعلیم کے لیے یہاں بھیجا۔ جامعہ کے لیے میرا پہلا سفر 1977 میں ہوا۔ یہ سفر جامعہ کی دعوت پر 18-16 اپریل 1977 کو اس کی گولڈن جُبلی (المهرجان الذهبی) میں شرکت کے لیے ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا جو ماہ نامہ الرساله، جولائی 1977، میں شائع ہوا۔ اس مقالے کا عنوان یہ تھا: دعوت اسلامی کے جدید امکانات بعد کو یہ مقالہ عربی زبان میں ’’امکانات جديدة للدعوة‘‘ کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہ مقالہ 36 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کو قاہرہ سے المختار الإسلامی پبلشر نے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔ اب وہ مقالہ راقم الحروف کی کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ میں ’’اسلامی انقلاب: تاریخ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے (صفحہ 145)۔ اس سفر کی مختصر روداد اُسی زمانے میں ماہ نامہ الرسالہ، اگست 1977 میں چھپی تھی (صفحہ 52)۔

جامعہ دارالسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آغاز ہی سے دعوت کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1978 میں ہوا، جب کہ یہاں تخصص فی الدعوة کے تحت، دعوت کا ایک مستقل شعبہ کھلا اور اس کے لیے ایک علیحدہ عمارت بنائی گئی جو اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک سالہ کورس ہے اور اس میں مدارسِ عربیہ سے فارغ حضرات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس دعوتی شعبہ کے قیام میں مولاناریاض موسیٰ مالاباری (کیرالا) کا خاص رول ہے۔ یہاں 1997 سے ریاض موسیٰ مالاباری صاحب کی شرکت سے دعوت کا باقاعدہ کورس شروع کیا گیا۔

صبح کے اس پہلے پروگرام کے بعد دوسرا پروگرام لائبریری کے ہال میں تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اساتذہ کے لیے خاص تھا۔ اس میں جامعہ کے تمام اساتذہ شریک تھے۔ اساتذہ کے اس اجتماع میں گفتگو کا موضوع ’’تعلق مع اللہ‘‘ تھا۔ اس موقع پر میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page