جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹
نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ تعلق باللہ کا مطلب ہے— ذکر اللہ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحیح البخاری)، یعنی ہر حین (occasion) کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یاد کرنا۔ میں نے کہا کہ تعلق باللہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو تدبر اور تفکر اور توسم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ذکر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذکر کثیر ورد کثیر کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ تفکر کثیر کا نام ہے۔ آخر میں سامعین کی طرف سے مختلف سوالات کئے گئے۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے آج اپنی صبح کی تقریر میں مؤثر دعوت کے لیے صبر کی اہمیت بتائی تھی اور یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بدو مدینہ آیا اور اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ آپ نے اُس سے درگزر کا معاملہ فرمایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس بدو نے نادانی میں ایسا کیا تھا، مگر آج مسلمانوں کے خلاف اِس قسم کے واقعات عداوت کی بنیاد پر ہورہے ہیں، پھر اس سے کیسے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا اس سوال کا جواب صبح کے اجتماع میں قاری صاحب نے اپنی تلاوت کے ذریعہ دے دیا ہے۔ انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی تھی: ادفع بالتي هي أحسن، فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم (41:34)۔ اس آیت کے مطابق ہم کو ’’عدو‘‘ کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک کرنا ہے جو نادان کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی ردعمل کا طریقہ اپنانے کے بجائے صابرانہ طریقہ اپنانا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں، مسلمان تو مسلسل صبر ہی کر رہے ہیں، لیکن اُنھیں صبر کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، وہ برابر ذلت و ناکامی کا شکار ہورہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إنّ الله مع الصابرين ۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان مطلوب صبر نہیں کر رہے ہیں۔ اگر وہ مطلوب صبر کر رہے ہوتے تو قرآن کے بیان کے مطابق، یقیناً وہ ’’ذلت و ناکامی‘‘ کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، صبر کرنے والوں کو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور اللہ کی نصرت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues