جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰
کے بعد کسی کے لیے ذلت و ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔
صبر کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا مطلب نہ پسپائی ہے اور نہ بے عملی ہے۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ٹکڑاؤ کو وائڈ کر کے مثبت بنیاد پر اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ صبر یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے نفرت کو ختم کردیں، تشدد کے مزاج کو ختم کردیں، لڑنے کے مزاج کو ختم کردیں، اشتعال سے پرہیز کریں۔ اس طرح کے مثبت اوصاف کو پیدا کرنے کے بعد جو تعمیری منصوبہ بنایا جائے، اسی کا نام صبر ہے۔ پروگرام کے بعد مولانا کا سا سعید احمد عمری نے کہا کہ آپ نے بے حد قیمتی باتیں بتائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تقریر کے اختتام پر اساتذہ کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا لٹریچر دیا گیا۔ ہال میں میز پر موجود سارا لٹریچر اسی وقت ختم ہو گیا۔ اساتذہ نے خود سے یہ لٹریچر حاصل کیا، اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
8 جون 2010 کے مذکورہ پروگرام کے بعد میرے کمرے میں کئی لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ یہ بنگلور کے رہنے والے تھے۔ ان میں ایک صاحب کا نام مسٹر رمن تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک اسکول میں انگلش ٹیچر ہیں۔ مسٹر رمن نے بتایا کہ مجھے خدا کی توفیق سے، آپ کی کتاب (The Reality of Life) پڑھ کر سچائی کی دریافت ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک متلاشی (seeker) تھا۔ میں نے اس سلسلے میں مختلف مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا، مگر میں اپنی تلاش کا جواب پانے میں ناکام رہا۔ اب آپ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد توحید کا تصور پوری طرح مجھ پر واضح ہوگیا ہے، اور جنت کا راستہ میرے سامنے کھل گیا ہے۔
8 جون 2010 کی سہ پہر کو تین بجے سے چار بجے تک دُعاۃ کے ساتھ ’’تبادلہ خیال‘‘ کا پروگرام تھا۔ میں نے پروگرام کے آغاز میں تقریباً 25 منٹ تک دعوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ دعوت کا عمل ایک اعتبار سے دو طرفہ ایکسچینج (exchange) کا عمل ہے۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بات کا اعلان کردیں، بلکہ دعوت کے دوران آپ کو خود بھی سیکھنا چاہیے۔ دعوتی عمل کا فائدہ خود داعی کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues