Al-Risala · October 2010 · page 21

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

ذہنی ارتقا کی صورت میں ملنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مطالعہ کتب کو اپنے ڈیلی روٹین میں شامل کر لیں۔ اسی کے ساتھ آپ میں سے ہر شخص ڈائری بھی ضرور رکھے۔ ڈائری گویا کہ کتاب محاسبہ ہے۔ دُعا کا ایک اور مشورہ میں نے یہ دیا کہ آپ لوگ اپنا دعوتی عمل خاص طور پر اُن لوگوں کے ساتھ کریں جن سے آپ کی علمی سطح بڑھنے والی ہو۔ دینا وہی دینا ہے جب کہ دینے کے عمل کے دوران آدمی نے خود بھی کچھ پایا ہو۔

تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں گزشتہ ایک سال سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ مطالعے کے دوران میں نے پایا کہ آپ ذہنی ارتقاء پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ ذہنی ارتقا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’’ازدیادِ ایمان‘‘ کہا گیا ہے۔ لوگ ازدیادِ ایمان کو ایک پراسرار چیز سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازدیادِ ایمان ایک معلوم چیز ہے اور اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تدبر وتفکر اور توسم کہا گیا ہے۔ وہ چیز جس کو قرب الہی کہا جاتا ہے، اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ ذہنی ارتقا سے آدمی کو معرفت حاصل ہوتی ہے، اور معرفت انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔ 8 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ دارالسلام کی مسجد میں ایک خطاب رکھا گیا۔ اس میں جامعہ کے طلبا اور اساتذہ دونوں شریک تھے۔ اس خطاب کا موضوع تھا: معرفتِ الہی۔ میں نے کہا کہ معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا حسیاتی تجربہ ہونے لگے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں واسجد واقترب کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور حدیث میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں : تعبد اللہ کأنك تراه۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے، وہ قیمت بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی پردہ التباس (element of doubt) کو پھاڑ کر حقیقتِ اعلیٰ کو دیکھ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page