جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲
سکے ۔ پردہ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ہرقسم کے ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے ، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگادے۔ ڈسٹرکشن میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصدِ اعلیٰ سے ہٹانے والی نہ ہو۔ اس میں ہرقسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں۔ مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی، وغیرہ۔ اس سلسلے میں ایک بات میں نے یہ بتائی کہ انسان کو جو دماغ دیا گیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو آن فولڈ (unfold) کرے اور اس کو حقائق ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب (27: 31) اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ اسی کے ساتھ انسانی دماغ کے جوامکانات (potential) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے پارٹیکل ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود پارٹیکل کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیرمعمولی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہل جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ (شغلِ فاکه) یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طور پر دریافت کرتے رہیں۔ موجودہ دنیا دراصل اس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اس لامحدود عمل کے لیے تیار (prepare) کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصولِ معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربانی کے طور پر ملیں گی یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: نزلاً من غفور رحیم۔
خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حصولِ معرفت کی نسبت سے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ معرفت کا اصل ذریعہ تخلیقاتِ خداوندی میں تدبر اور تفکر ہے۔ یہی علماء راسخین کا مسلک ہے۔
امام ابن تیمیہ نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں پر غور وفکر کرنا ہی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues