جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
الکمال والجلال، فیعرفه حق معرفته۔ (دقائق التفسیر، الجامع لتفسیر ابن تیمیة، 1/49) یہ تدبر اور تفکر قدیم زمانے میں بھی مطلوب تھا، اور آج بھی اسی کے ذریعے کسی آدمی کو معرفتِ خداوندی مل سکتی ہے۔ اس اعتبار سے، قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں، البتہ جدید سائنسی دور میں معلومات کے اضافے کی بنا پر تدبر کا فریم ورک (framework) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
پروگرام ختم ہوا تو مغرب کی نماز میں تقریباً نصف گھنٹہ باقی تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر کے لیے کلیہ بلڈنگ کے دفتر میں بیٹھ گئے۔ یہاں جامعہ کے مختلف اساتذہ اور دیگر علماء موجود تھے۔ مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ آج کی تقریر (معرفتِ الہیٰ) میں آپ نے جنت اور کلماتِ رب کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے جنت اور آخرت کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ میں نے کہا کہ جنت کا یہ تصور اُس سوال کا واحد جواب ہے جو تمام اہل علم کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ تمام فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس داں مشترک طور پر اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اتنی زیادہ با معنیٰ (meaningful) کائنات کا ایک بے معنیٰ انجام (meaningless end) پر ختم ہو جائے گی۔ جنت کا تصور واحد تصور ہے جو اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ لیکن جنت کے ماننے والوں نے جنت کی جو تصویر بنا رکھی ہے، اُس میں اُنھیں اپنے اِس سوال کا جواب نہیں ملتا۔
8 جون 2010 کو مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے ۔ یہاں مولاناریاض موسیٰ مالاباری سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہمارے انگریزی ترجمہ قرآن کو سامنے رکھ کر ملیالم زبان میں اس کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ہماری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا ملیالم ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ ان کی مادری زبان ملیالم ہے۔ انھوں نے میرے حالات اور مشن کو لے کر ایک تفصیلی انٹرویو لیا جس کو وہ ملیالم اخبار میں شائع کریں گے۔ آج شام کو مولانا کا سا سعید احمد عمری سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے تزکیہ اور روحانیت کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues