جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴
مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد کو اس مجلس میں دیگر علماء کے علاوہ، مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری، وغیرہ آگئے۔ کا کا صاحب اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت صاف دل آدمی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس مجلس میں مولانا فیاض الدین عمری نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پایا ہے کہ کا کا صاحب کا سب سے بڑا کَنْسَرن (concern) یہ ہے کہ جامعہ دارالسلام کے طلباء اور اساتذہ میں تزکیہ اور روحانیت پیدا ہو۔ یہ بات سن کر کا کا صاحب فوراً سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط بات کیوں کہتے ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہیے کہ خود مجھے تزکیہ اور روحانیت کی ضرورت ہے۔ 8 جون 2010 کو ہم نے عشاء کی نماز عمر آباد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ اور سابق شیخ الحدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی صاحب کے گھر پر کھانے کا پروگرام تھا۔ وہ جامعہ کیمپس کے باہر عمر آباد میں رہتے ہیں۔ وہ 1920 میں (اعظم گڑھ، یوپی) میں پیدا ہوئے اور بعد کو عمر آباد میں آکر بس گئے۔ وہ 1958 سے مستقل طور پر عمر آباد میں مقیم ہیں۔ گذشتہ 50 سال سے وہ جامعہ میں حدیث کے استاذ ہیں اور اسی کے ساتھ افتاء کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ اپریل 1977 میں انھیں کی خصوصی دعوت اور تحریک پر میں نے جامعہ دارالسلام کا سفر کیا تھا۔ عمر آباد آنے سے پہلے میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں کسی کے گھر دعوتی کھانا کھانے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ میں صرف جامعہ میں کھانا کھاؤں گا۔ مگر بعض وجوہ سے استثنائی طور پر مولانا ظہیر الدین صاحب کے یہاں کھانے کے لیے جانا منظور کر لیا۔ اس موقع پر جامعہ کے کئی علماء بھی شریک تھے۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے ذکر کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ ذکر سب سے بڑی ہستی کو یاد کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ذاکر کے اندر اُسی عظیم ہستی کی نسبت سے کیفیات پیدا ہونی چاہئیں۔ جس ذکر میں ذاکر کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں، وہ ذکر ایسا ہی ہے جیسے پلاسٹک کا بنا ہوا گلاب کا پھول۔ بظاہر وہ پھول ہے، لیکن اس سے آدمی کو کوئی خوشبو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی پھول آدمی کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح حقیقی ذکر وہ ہے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues