Al-Risala · October 2010 · page 25

جنوبی ہند کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵

جو آدمی کو اعلیٰ ربانی کیفیات سے معمور کر دے۔

9 جون 2010 کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے جامعہ کے کیمپس میں واک کی۔ اس کے بعد مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ان کے گھر جاؤں اور وہاں صبح کی چائے پیوں۔ میں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ چائے پر بلاتے ہیں اور پھر پر تکلف ناشتے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ وعدہ کریں کہ آپ کے یہاں صرف چائے ہوگی اور دوسرا کوئی آئٹم نہ ہوگا، تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ انھوں نے وعدہ کیا۔ چناں چہ میں ان کے یہاں گیا اور واقعہً انھوں نے اپنے وعدے کو نبھایا۔

اس مجلس میں اور بھی کئی علماء موجود تھے—مولانا محمد ابراہیم عمری، مولانا کاکا خیل احمد عمری، وغیرہ۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل تسبیح فاطمہ کا بہت رواج ہے۔ لیکن یہ لوگ تسبیح فاطمہ کو اس کی پوری شکل میں نہیں لیتے، بلکہ ادھوری شکل میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تسبیح اپنی صاحب زادی فاطمہ کو خادم کے بدل کے طور پر بتائی تھی۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے تسبیح فاطمہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر لیا ہے اور وہ اس کو پراسرار فضیلت کے طور پر پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ اس کی بنیاد پر تسبیح کا بہت بڑا کاروبار ساری مسلم دنیا میں قائم ہے۔ مزید یہ کہ پہلے وہ اپنی صاحب زادیوں کے لیے ہر قسم کی مادی سہولت فراہم کرتے ہیں اور پھر تبرک کے طور پر ان کو تسبیح اور مصلیٰ بھی دے دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ذکر کے فارم کا انکار کرتے ہیں، حالاں کہ ذکر کا فارم تو قرآن میں موجود ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اعتراض محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر الفاظ کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کسی بھی چیز کا تصور کرنے کے لیے الفاظ کا محتاج ہے۔ اسی طرح ذکر کے لیے بھی الفاظ ضروری ہیں۔ میں دراصل ذکر کی موجودہ شکل کو ذکر کا تصغیری فارم سمجھتا ہوں، جس میں ذکر کو اس کی اسپرٹ سے الگ کر دیا گیا ہے۔

ذکر کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے: إنما المؤمنون الذين

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page