جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
إذا ذكر الله وجلت قلوبهم (8:2)۔ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ذکر وہ ہے جو اگر چہ الفاظ کی صورت میں ظاہر ہو، لیکن اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے وہ ایک ہلچل کی مانند ہو، جس سے ذکر کا قلب دہل اٹھے، جو اس کے دل و دماغ کے لیے ایک طوفانی تجربہ بن جائے، جو آدمی کے لیے خداوند ذو الجلال کی دریافت کے ہم معنی بن جائے۔
گفتگو کے دوران کا انیس احمد عمری سے میں نے پوچھا کہ آپ کی فیملی ایک جوائنٹ فیملی ہے۔ جوائنٹ فیملی میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ لوگ کس طرح اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ کا کا انیس صاحب نے کہا کہ اس کا فارمولا ہے ــــ صبر و برداشت سے کام لینا اور دوسروں کی کمی کو نظر انداز کرنا۔ اس میں سب سے اہم رول گھر کے بڑے کا ہوتا ہے۔ گھر کا بڑا اگر دانش مندی سے کام لے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ــــ یہ فارمولا مجھے بہت پسند آیا۔ یہ سادہ بھی ہے اور پوری طرح قابل عمل بھی، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
9 جون 2010 کا پروگرام صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا تھا۔ اِس سے پہلے کئی علماء میرے کمرے میں آ گئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ ذکر تجدید شعور کا نام ہے، تکرارِ لفظی کا نام ذکر نہیں، حالاں کہ احادیث میں بہت سی روایات ذکر کے سلسلے میں آئی ہیں۔ میں نے کہا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا، اُس کا تعلق نفسِ ذکر سے نہیں ہے، بلکہ تصورِ ذکر سے ہے۔ ذکر کی اہمیت بلاشبہہ بہت زیادہ ہے، لیکن ذکر سے مراد تکرارِ معانی ہے، نہ کہ مجرد تکرارِ الفاظ۔ جب انسان اپنے خالق کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں ایک تموج پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی تموج جب الفاظ کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ذکر ہے۔ مجلس کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ اور دُعاۃ بیٹھے ہوئے تھے، جو اُن کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کا کا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد کا کا صاحب خاموشی کے ساتھ کمرے کے ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues