جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
بیٹھ گئے۔ یہ منظر میں نے صرف جامعہ دارالسلام میں دیکھا۔
9 جون 2010 کو’’تزکیہ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ اس خطاب کا انتظام جامعہ کی لائبریری کے ہال میں کیا گیا تھا۔ اس خطاب میں جو باتیں میں نے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عام طور پر تزکیہ نفس کے موضوع کو ایک پر اسرار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ نفس کو تزکیہ قلب کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ ذہن ہے، یعنی نفسیاتی تزکیہ۔ تزکیہ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر شخصیت کہا جا سکتا ہے، یعنی روح انسانی کی تطہیر (purification of soul)۔ تزکیہ نفس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنا بے رحمانہ محاسبہ کرے اور اپنی شخصیت کو تمام منفی اور نامطلوب عناصر سے پاک کر کے اپنے آپ کو ربانی انسان بنائے۔ تزکیہ نفس کوئی وقتی عمل نہیں، وہ تاحیات جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔
تزکیہ نفس کا کوئی تعلق مروجہ مراقبہ (meditation) سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق تمام تر تفکر اور تدبر سے ہے۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) نے بجاطور پر لکھا ہے کہ تزکیہ نفس کا ذریعہ تذکر اور تفکر ہے: أن التذكر والتفكر سبب التزكى۔ فإنه إذا تذكر خاف ورجا، فتزكي (دقائق التفسير للإمام ابن تيمية، 5/92)
تزکیہ نفس دراصل یہ ہے کہ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنی کنڈیشنگ کو توڑا جائے اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کی جائے ۔ دراصل ڈی کنڈیشنگ ہی تزکیہ نفس کا پہلا دروازہ ہے۔ ہر آدمی کا کیس کنڈیشنگ کا کیس ہے۔ جب تک اس کنڈیشنگ کو توڑا نہ جائے، کسی شخص کے اندر تزکیہ نفس کا عمل (process) شروع نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ لوگ تزکیہ کا معروف کورس پورا کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر مطلوب تزکیہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے نام پر لوگ ورد اور تسبیح اور وظیفہ اور نفلی اعمال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان اعمال کے اندر کراماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں جو پر اسرار طور پر ان کا تزکیہ کر دیں گے، حالاں کہ اس طرح کے شکلی اعمال کا براہ راست تعلق تزکیہ نفس سے نہیں ہے۔ تزکیہ حقیقتہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues