جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
ایک شعوری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کسی فارم کی ظاہری ادائیگی کا نتیجہ۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا سوال و جواب تھا۔ یہاں جو سوالات کئے گئے، ان میں سے ایک سوال تھا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تزکیہ نفس کا تعلق کسی ظاہری فارم سے نہیں ہے، بلکہ تزکیہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب ایک صحابی کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء انصاری کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا خاص عبادتی عمل کیا تھا۔ انھوں نے جواب دیا: التفکر والاعتبار یعنی سوچنا اور چیزوں سے عبرت پکڑنا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی ہوں، حالاں کہ تصوف، اسلام میں ایک مبتدعانہ اضافہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں صوفی کا لفظ مروجۂ معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ صوفی سے میری مراد وہی ہے جس کے لیے قرآن میں رہبانیت (79: 3) کا لفظ آیا ہے۔ رہبانیت کی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، اور جہاں تک موجودہ تصوف کا تعلق ہے، وہ اسی رہبانیت کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تصوف کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے آپ میری کتاب’’فکرِ اسلامی‘‘(صفحہ 128) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
9 جون 2010 کو اگلا پروگرام دعاة سے’’تبادلہ خیال‘‘کا تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا جو تین بجے سے چار بجے تک جاری رہا۔ یہ پروگرام سوال و جواب کی صورت میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقیدے سے ہے۔ مثلاً توحید اور آخرت، وغیرہ۔ اسی طرح کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق نظام سے ہے۔ مثلاً دیوانی اور فوج داری کے قوانین اور تعزیرات، وغیرہ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کی دعوت کا آغاز اسلام کے کس حصے سے کریں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب سیرتِ نبوی میں موجود ہے۔ آپ نے مکہ میں نبوت کا آغاز کیا تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے: أیہا الناس قولوا لا إلٰہ إلا اللہ، تفلحوا۔ اسی طرح قرآن کے جو حصے مکی دور میں نازل ہوئے تھے، آپ ان کو پڑھ کر لوگوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues