Al-Risala · October 2010 · page 29

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹

کوسناتے۔ چناں چہ سیرت کی کتابوں میں آپ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ لوگوں سے مل کر اُن کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے (عرض علیهم الإسلام، وتلا علیهم القرآن)۔

ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی حیثیت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک ثانوی (secondary) چیز (أخرى) کی حیثیت رکھتا ہے (13:61)۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کو مطلوب اول کا درجہ حاصل نہیں۔

پروگرام کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ یہاں کئی علماء اکٹھا ہوگئے اور دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں ایک بات میں نے یہ کہی کہ اسلام میں عقل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے اس سلسلے میں حاضرین کو ایک حدیث سنائی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ما خلق الله خلقاً أكرم عليه من العقل (المغنى عن حمل الأسفار للعراقي، رقم الحديث: 13483) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کیں، اُن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز عقل ہے۔ عجیب بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو غیر اہم قرار دے دیا اور ساری اہمیت عشق کو دے دی، یہاں تک کہ ایک معروف مسلم شاعر نے کہا:

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اس غلطی کا سبب غالباً یہ تھا کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو فلسفہ کی نسبت سے دیکھا۔ اگر وہ عقل کو سائنس کی نسبت سے دیکھتے تو وہ کبھی اِس غلطی میں مبتلا نہ ہوتے۔ عقل ایک فطری صلاحیت کا نام ہے جو خدا کی ایک تخلیق ہے۔ اس کے مقابلے میں، فلسفہ خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے ایک علم کا نام ہے، جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ سائنس اور فلسفہ میں یہ فرق ہے کہ فلسفہ قیاسی منطق (sylogism) پر مبنی ہے، اور سائنس مکمل طور پر قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ سائنس میں اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ ناقص دریافت کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ خود ساختہ قیاس کی بنا پر۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أرباباً من

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page