Al-Risala · October 2010 · page 30

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰

دون اللہ (31:9) کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس آیت کی وضاحت ایک مشہور روایت سے ہوتی ہے۔ عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) پہلے نصرانی تھے۔ وہ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ کے سامنے یہ آیت پڑھی اور کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کو اپنا رب نہیں بنایا، انھوں نے کبھی اپنے احبار و رہبان کی عبادت نہیں کی (إنهم لم يعبدوهم )، آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُن کے احبار و رہبان نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا اور انھوں نے اس کو مان لیا۔ یہود و نصاریٰ کی یہی روش ان کے احبار و رہبان کی عبادت کے ہم معنی تھی (فذلك عبادتهم إياهم )۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں رب کا لفظ آیا ہے۔ یہ اس معاملے کی شناعت کو بتانے کے لیے ہے۔ انھوں نے جو کیا تھا، وہ یہ تھا کہ خدا اور رسول کے حوالے کے بجائے، اپنے احبار و رہبان کا حوالہ دے کر کسی چیز کو ترک کرتے یا کسی چیز کو اختیار کر لیتے۔ حدیث میں تحلیلِ حرام اور تحریمِ حلال کا لفظ بھی اسی معاملے کی شناعت کو بتانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے علما ء و مشائخ (احبار و رہبان ) کو مستقل بالذات مرجع (reference) سمجھ لیا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان عین اسی روش پر قائم ہیں۔ موجودہ مسلمان عام طور پر یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ ــــ ہمارے اکابر کا طریقہ یہ ہے، ہمارے اسلاف کا اس پر عمل رہا ہے، ہمارے بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے، وغیرہ۔ یہ طریقہ عین یہودی طریقہ ہے۔ مسلمان کے لیے صرف ایک ہی مستقل بالذات حوالہ ہے، اور وہ خدا اور رسول کا حوالہ ہے۔ اس کے سوا جو حوالے مسلمانوں میں رائج ہو گئے ہیں، وہ بلاشبہ یہودی اتباع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اکابر کا منہج، اسلاف کا منہج اور بزرگوں کا منہج، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ منہج و اتباع کی حیثیت سے ہمارا سارا تعلق خدا اور رسول سے ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے اکابر اور اپنے اسلاف سے۔

میں نے اس مجلس میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں ایک ایسے گروہ (عصابة ) کا ذکر ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس گروہ کے لیے حدیث میں جہنم کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page