Al-Risala · October 2010 · page 36

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶

ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مر جاتے ہیں۔ اس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آ جاتی ہے۔ اس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تاکہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں اَعِدّوا لَھُم ما استطعتم من قوة (8:60) آیا ہے۔ اس میں اعداقوت سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اس کا معیار بتا دیا گیا ہے، اور وہ ارہاب ہے، یعنی وہ قوت فراہم کرو جو فریق ثانی کے نزدیک قوت مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جنگی ہتھیار کی حیثیت قوت مرہبہ کی نہیں ہے، بلکہ سائنسی علوم کو یہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں امریکا اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا کے پاس ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنے کے با وجود وہ ویت نام، عراق، افغانستان، وغیرہ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ایک سوال قرآن کی اس آیت کے بارے میں تھا: اذن للذین یقاتلون بأنھم ظلموا (22:39)۔ میں نے کہا کہ اس آیت سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ کسی فریق کے ساتھ ظلم کا واقعہ ہو تو اہل اسلام کے لیے جنگ جائز ہو جاتی ہے، مگر یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔ یہ مدنی آیت ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکی دور میں افراد کے ساتھ بار بار ظلم کیا گیا، لیکن اُس وقت یہ آیت نہیں اتری۔ یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں اتری۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اس آیت میں ظلم سے مراد انفرادی ظلم نہیں ہے، بلکہ فوجی حملہ ہے، یعنی ایک بیرونی حکومت کا مسلم حکومت پر باقاعدہ فوج کے ذریعے حملہ آور ہونا۔ اس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ جب فوج کے ذریعے اس قسم کا جارحانہ حملہ کیا جائے تو اُس وقت بھی صرف حکومت کو دفاعی جنگ (defensive war) کی اجازت ہوگی۔ غیر حکومتی افراد اور تنظیموں (NGOs) کو اُس وقت بھی مسلح جنگی کارروائی کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ موجودہ زمانے کے علماء، عرب اور غیر عرب دونوں نے، جو شدید ترین غلطی کی ہے، وہ یہ کہ انھوں نے ظلم کے نام پر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page