عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷
غیر حکومتی عسکریت (non-governmental militancy) کو شرعی اعتبار سے جائز قرار دیا۔ بلاشبہ یہ ایک مہلک غلطی تھی۔ مجھے اس معاملے میں کسی عرب یا غیر عرب عالم کا استثنا نظر نہیں آتا۔ ہمارے یہاں سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے، اس کی بابت پروگرام کے آخر میں مولانا ریاض موسیٰ صاحب نے بتایا کہ میں نے انگریزی جاننے والے افراد کی ایک ٹیم کو یہ ترجمہ دیا۔ اور میں نے کہا کہ دوسرے انگریزی تراجم سے اس کا تقابل کرنے کے بعد مجھ کو بتائیے کہ کون سا ترجمہ سب سے زیادہ واضح اور عصری زبان میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ تقابل کرنے کے بعد ان لوگوں نے متفقہ طور پر کہا کہ صرف گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہونے والا انگریزی ترجمہ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس میں پوری طرح وضوح (clarity) ہے، اور اسی کے ساتھ وہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس کو ڈکشنری کی مدد کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی تراجم میں سب سے زیادہ قابل فہم ترجمہ ڈاکٹر بشیر محی الدین (افریقہ) کا ترجمہ مانا جاتا ہے، لیکن گڈ ورڈ سے شائع ہونے والا ترجمہ اس سے بھی زیادہ واضح اور قابلِ فہم ہے۔
10 جون 2010 کو ظہر کی نماز کے بعد خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے کلیہ ہال میں کیا گیا۔ اس میں دعاۃ اور طلبا کے علاوہ، جامعہ کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا: سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے۔ اس موضوع پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہاں مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ تحریک (movement) ایک ایسا عمل ہے جو ایک شخص یا گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کے مقابلے میں برپا ہوتا ہے۔ اس طرح کسی تحریک کے تقاضے دو طرفہ ہو جاتے ہیں، یعنی ایک طرف داعی کی نسبت سے اور دوسری طرف مدعو کی نسبت سے۔ آپ نماز خود اپنے فیصلے کے تحت پڑھ سکتے ہیں، لیکن تحریک کی کامیابی اس میں ہے کہ آپ دوسروں کو بھی بخوبی طور پر جانیں اور دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues