عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
موجودہ زمانے میں اٹھنے والی مسلم تحریکیں اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں کے چلانے والے صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، دوسروں کے بارے میں وہ پوری طرح بے خبر تھے۔
میں نے جہاں تک سیرتِ رسول کا مطالعہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جا سکتا ہے، یعنی دوسروں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے انتہائی حد تک غیر نزاعی انداز میں اپنا کام کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حکیمانہ پالیسی کا اعتراف برطانوی مستشرق ای ای کلیٹ (E E Kellett) نے اپنے الفاظ میں اس طرح کیا ہے ــــ انھوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں:
He faced adversity with the determination to wring success out of failure. سیرتِ رسول کے اس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے ۔ پروگرام کے بعد حاضرین کو سوال وجواب کا وقت دیا گیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چناں چہ جلسے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے اس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرتِ رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کا کا صاحب نے جامعہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اس پورے خطاب کو جامعہ کے ترجمان ماہ نامہ "راہِ اعتدال" میں شامل کریں۔ پروگرام کے خاتمہ پر ہم لوگ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں گئے۔ مسجد کافی کشادہ، مگر نہایت سادہ تھی۔ مسجد کی دیواروں پر اُس قسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طور پر سادہ اور مکمل طور پر پرسکون تھی۔ طلبا کے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔
نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ یہاں لائبریری کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues