عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹
باہر ہی ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکٹھا تھے۔ مثلاً وانیمباڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدر آباد، وغیرہ۔ ان لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میں نے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لئے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے — یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ : اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور الله (الترمذی، باب تفسیر القرآن عن رسول الله) ۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کے مطابق، سچا ایمان آدمی کے اندر ایک ربانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کی منصوبہ بندی کے مقابلے میں، دوسرے لوگ دفاعی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ مسلمان دوسروں کے خلاف شاک کی بنے ہوئے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ فراستِ ایمانی سے محروم ہیں۔ اس لیے ایسا ہوا ہے کہ اُن کے مقابلے میں، دوسروں کو بالا دستی حاصل ہو گئی ہے۔
بنگلور کے حلقہ الرسالہ کے تقریباً 15 لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے دعوت اور آخرت کے موضوع سے متعلق کچھ باتیں کہیں جس کو سن کر وہ رونے لگے۔ انھوں نے مجھ سے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو صرف ایک نصیحت کروں گا۔ وہ یہ کہ آپ آج سے اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ آپ کو اپنے اندر قلبِ سلیم پیدا کرنا ہے اور اسی حال میں آپ کو جینا اور اسی حال میں مر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی کی نصیحت ہے جو قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آپ کو یہ نصیحت کر رہا ہے۔ اس موقع پر آمبور (ضلع ویلور، تمل ناڈو) کے خطیب محمد سالم صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ مولا نا محمد کلیم صدیقی صاحب کے تحت، اپنے علاقہ میں غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی مرتب کردہ ایک کتاب مطالعہ کے لیے دی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues