Al-Risala · October 2010 · page 40

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰

نسیم ہدایت کے جھونکے_ نومسلموں کی کہانی خود انہی کی زبانی (صفحات: 176)

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں ماہ نامہ ارمان (پھلت) میں شائع شدہ غیر مسلم حضرات کے مختلف انٹرویو جمع کر دیئے گئے ہیں۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مرتب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس کی اشاعت کا مقصد امت کے اندر یہ احساس جگانا ہے کہ پوری دنیا میں اشاعتِ اسلام کا کام اگر ہم نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے دوسرے بندوں کو اس کام کے لیے کھڑا کر دیں گے: وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم۔

جامعہ کے ایک استاد حافظ شیخ کلیم اللہ عمری مدنی ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے اپنے چند کتابچے برائے مطالعہ پیش کیے۔ مثلاً محبت الہی کے ذرائع اور اخلاقیات، وغیرہ۔ اس موقع پر جامعہ کے ایک نوجوان اور سنجیدہ استاد مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری نے اپنی کتاب ”انتہا پسندی اور اسلام“ مطالعے کے لیے دی۔ یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ وہ 216 صفحات پر مشتمل ہے۔

10 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاد مولانا ڈاکٹر سعید احمد عمری ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے علمی انحطاط کا سبب کیا ہے، جب کہ ماضی میں وہ علمی ترقی کے اعتبار سے ممتاز مقام پر پہنچ گئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب ہم مسلمان یا ملتِ مسلمہ کا لفظ بولتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم اس کو ایک تسلسل کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ معاملہ سادہ طور پر مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی دو مختلف نسلوں کا معاملہ ہے، یعنی دورِ عروج کی مسلم نسلیں اور دورِ زوال کی مسلم نسلیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا علمی زوال ان کے اپنے نسلی زوال کا نتیجہ ہے، اور دورِ زوال میں یہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ مطالعہ قرآن کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بہت سے اصول علماء نے لکھے ہیں، لیکن میرے اپنے تجربے کے مطابق، سب سے بڑا اصول دعا ہے۔ اس سلسلے میں مجھ کو امام ابن تیمیہ کا طریقہ بہت پسند ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ ایک آیت کو سمجھنے کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page