Al-Risala · November 2010 · page 8

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۸

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : إِنَّ الاسلام بدأ غریباً وسیعود غریباً كما بدأ فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان أن الاسلام بدأ غریباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی (stranger) تھا۔ وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، جیسا کہ وہ پہلے تھا، تو اجنبیوں کو مبارک ہو۔

بعد کے زمانے میں اسلام کے اجنبی ہونے کی یہ پیشین گوئی مسلمانوں کی نسبت سے ہے، یعنی اسلام خود مسلمانوں کے درمیان اجنبی ہو جائے گا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نفسِ اسلام نہیں ہے، بلکہ اسلام کا کوئی بنیادی جز ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ بنیادی جز کیا ہے۔ غور کیجیے تو بعد کی مسلم نسلوں میں ہمیشہ اسلام بظاہر موجود رہا ہے اور آج بھی وہ موجود ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی مسلم نسلوں میں اور آج کی مسلم نسلوں میں بھی تمام اسلامی مظاہر موجود ہیں۔ ان کے درمیان کلمہ ایمان موجود ہے، نماز اور روزہ موجود ہے، زکوۃ اور عمرہ اور حج موجود ہے، قرآن کی تلاوت موجود ہے، دینی تعلیم کے ادارے موجود ہیں، مسجدیں اور مدرسے موجود ہیں، اسلام کے نام پر جہاد موجود ہے، ذکر واذکار کی محفلیں موجود ہیں، دین کے نام پر نقل و حرکت موجود ہے، ہزاروں کی تعداد میں اسلام کے نام پر بننے والی تنظیمیں بھی موجود ہیں، مسلمانوں کے اپنے دعوے کے مطابق، اسلامی سیاست اور اسلامی حکومت بھی موجود ہے، ساری دنیا میں بڑی بڑی شخصیتیں بھی موجود ہیں جن کی شناخت اسلام کے حوالے سے ہوتی ہے، اسلام کے نام پر جان و مال کی قربانی دینے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایسے افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کو خود مسلمانوں نے اس قسم کے ٹائٹل دے رکھے ہیں۔ مفکر اسلام، مجاہدِ اسلام، قائدِ اسلام، حکیم الاسلام، سیف الاسلام، حجۃ الاسلام، مجدد اسلام، شیر اسلام، وغیرہ۔

لیکن غور کیجیے تو اسلام کی صرف ایک بنیادی تعلیم ایسی ہے جو مسلمانوں کے درمیان موجود

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page