Al-Risala · November 2010 · page 9

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۹

نہیں، یہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن تھا۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی ساری توانا ئی اسی ایک مشن پر خرچ کی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) دعوت تھا۔ اس کا ایک اظہار قرآن کی اس آیت سے ہوتا ہے: لعلك باخع نفسك أن لا يكونوا مؤمنين (26:3) یعنی اے رسول، شاید تم اپنے آپ کو اس لیے ہلاک کردالوگے کہ لوگ (تمھاری غیرمعمولی دعوتی محنت کے باوجود) ایمان نہیں لا رہے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں صحابہ کی تربیت کس طرح کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان کے اندر کیسا مزاج بنا تھا، اس کا اندازہ ایک روایت سے ہوتا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے اُن کو جو نصیحت کی، ایک روایت کے مطابق، اُس کے الفاظ یہ تھے: یا علی، لأن يهدى الله على يديك رجلاً ، خير لك مما طلعت عليه الشمس (المستدرك علی الصحيحن للحاكم، (3/690) یعنی اے علی یاد رکھو، اگر اللہ تمھارے ذریعے سے ایک انسان کو ہدایت دے دے تو وہ تمھارے لیے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن کے اوپر سورج طلوع ہوتا ہے، یعنی تمام دنیا وما فیہا سے زیادہ بہتر۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی انداز میں اپنے اصحاب کو تربیت دی تھی۔ آپ ہر موقع پر اُنھیں دعوت الی اللہ کی اہمیت بتاتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرامن دعوت، اصحاب رسول کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا۔ ان کے لیے دعوت کے سوا، دوسری تمام چیزیں اضافی (relative) بن گئیں ۔ دعوت ہی ایک ایسا کام تھا جو اُن کے لیے حقیقی کام کی حیثیت رکھتا تھا۔

رسول اور اصحاب رسول اور تابعین کے دور کو اسلام کی تاریخ میں قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی زمانے میں تمام صحابہ کا واحد نشانہ عمل یہی تھا۔ نبوت کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ اس کے بعد مسلسل دعوتی کوشش کے نتیجے میں 20 سال کے عرصے میں عرب کے تقریباً تمام

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page