Al-Risala · November 2010 · page 10

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰

لوگ اپنے سابقہ مذاہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ جب عرب میں دعوت کا کام مکمل ہوگیا تو حجتہ الوداع (10 ہجری) کے بعد اصحاب رسول عرب سے نکل کر آس پاس کے ملکوں میں پھیل گئے اور اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو بیرونی علاقوں میں انجام دینے لگے، دعوت کا یہ کام کم و بیش بنو امیہ کے دور اقتدار (750- 661) تک جاری رہا۔

750 عیسوی سے تاریخ بدلتی ہے۔ اسی سال بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے اپنی سلطنت قائم کی۔ عباسی دور ہی وہ دور ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوتی شعور کا خاتمہ ہوگیا۔ عباسی دور میں مختلف قسم کی غیر معمولی ترقیاں ہوئیں، لیکن جہاں تک دعوتی عمل کا تعلق ہے، وہ اس دور میں تقریباً مفقود ہو گیا۔ اسلام کی اپنی فطری کشش کی بنا پر اگرچہ ہر زمانے میں لوگ اسلام قبول کرتے رہے، لیکن ایک باقاعدہ شعور کی حیثیت سے دعوت کا وجود باقی نہ رہا۔

عباسی دور ہی میں اسلام کے مختلف موضوعات پر وہ تمام کتابیں لکھی گئیں جن کو اسلام کا کلاسیکل لٹریچر سمجھا جاتا ہے، مگر ان تمام کتابوں میں واحد باب جو حذف ہوگیا، وہ دعوت کا باب تھا۔ ان کتابوں میں اسلام کے تقریباً تمام ممکن موضوعات پر بحث موجود ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اُن میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان مصنفین نے دعوت کے کام کو عملاً منسوخ قرار دے دیا ہو۔ عباسی دور میں جو پیٹرن (pattern) قائم ہوا، وہی پیٹرن دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر گویا کہ واحد مستند پیٹرن بن گیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی صدیوں میں کثیر تعداد میں قرآن کی تفسیریں لکھی گئیں، مگر ان تفسیروں میں سے کوئی تفسیر دعوتی اسلوب پر نہیں لکھی گئی۔ احادیث رسول کی تدوین ہوئی تو ان میں ہر قسم کے ابواب قائم ہوئے، لیکن دعوت کا باب حدیث کی کتابوں میں موجود نہیں۔ یہی حال فقہ کا ہوا۔ فقہ کی کتابوں میں ہر قسم کے ابواب موجود ہیں، مگر دعوت و تبلیغ کا باب فقہ کی کسی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔

اسی طرح سیرت کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اسلامی تاریخ پر لکھی جانے والی کتابیں اس انداز پر لکھی گئیں کہ وہ عملاً سیاسی اسلام کی تاریخ بن گئیں، حتی کہ مورخ ابن خلدون

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page