Al-Risala · November 2010 · page 11

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱

(وفات: 1406ء) نے غیر سیاسی نہج پر تاریخ لکھنا چاہی، مگر وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ کیوں کہ اس کے زمانے میں ایسی کتاب لکھنے کے لیے ضروری تاریخی مواد (data) ہی موجود نہ تھا۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں اسلام کی تشریح پر جو مشہور کتا بیں لکھی گئیں، وہ بھی عملاً دعوت کے ابواب سے خالی ہیں۔ مثلاً الغزالی کی احیاء علوم الدین، ابن قیم کی اعلام الموقعین، شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجتہ البالغہ اور اس قسم کی دوسری کتابیں جو عربی یا کسی اور زبان میں لکھی گئیں، وہ سب اس دعوتی تصور (concept) کے فقدان کی کھلی ہوئی مثالیں ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک یہی صورتِ حال باقی رہی۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں مغربی قو میں نئی طاقتوں کے ساتھ اٹھیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی دبدبے کا خاتمہ کر دیا۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر ختم ہو گیا، البتہ چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستیں باقی رہیں جو اب بھی 57 مسلم ملکوں کی شکل میں موجود ہیں۔

اس کے بعد مسلم سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یہ دور زیادہ واضح طور پر سید جمال الدین افغانی کے زمانے میں انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور بیسویں صدی کے آخر تک جاری رہا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی کوشش یہ تھی کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم کریں ۔ یہ کام مفروضہ سیاسی غاصبین کے خلاف جہاد بالسيف کی صورت میں شروع ہوا، مگر وہ اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس ناکامی کے دو بڑے علامتی واقعات ہیں — فلسطین میں عربوں کے مسلح جہاد کی مکمل ناکامی، اسی طرح کشمیر میں مسلح جہاد کی مکمل ناکامی۔ مسلح جہاد کی اس ناکامی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان پورے معاملے کا از سرِ نو جائزہ لیتے۔ وہ اپنی کمی کو دریافت کرتے اور نئی بنیادوں پر اپنی جدوجہد کی منصوبہ بندی کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ مسلمانوں کے مفکرین نے اس کے بجائے یہ کیا کہ انھوں نے اسلام کی پورے معنوں میں سیاسی تعبیر کر ڈالی۔ اس سے پہلے مسلمانوں کا مسلح جہاد صرف عملی معنوں میں ایک سیاسی جہاد کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اسلام کی سیاسی تعبیر کے بعد وہ مسلمانوں کے لیے عقیدہ کا ایک مسئلہ بن گیا، یعنی ہر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page