Al-Risala · November 2010 · page 12

اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲

حال میں انھیں سیاسی لڑائی لڑنا ہے، خواہ اس کا نتیجہ یک طرفہ تباہی کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک خطرناک قسم کے غلو (extremism) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہی وہ انتہا پسندانہ تعبیر ہے جس کے بطن سے وہ ظاہر ہ برآمد ہوا ہے جس کو آج کل خودکش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے، یعنی جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کر کے دشمن کو کچھ نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔ اسلام کی سیاسی تعبیر نے پہلے یہ کیا کہ مسلمانوں کے لیے دوسری اقوام کو اُن کا حریف بنا دیا۔ اس کے بعد مسلمان دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگے، وہ متشددانہ کارروائی کے ذریعے دشمن کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی تقریر و تحریر، ان کی انتخابی کارروائیاں (electoral activities)، اُن کے مسلح حملے اپنے مفروضہ دشمن پر انھیں کامیابی نہیں دے رہے ہیں تو وہ مایوسی کی آخری حد تک پہنچ کر خودکش بمباری کرنے لگے۔

عباسی دور میں جب دعوت کا تصور پس پشت چلا گیا اور مسلمانوں میں سیاسی توسیع کا ذہن پیدا ہو گیا تو یہ اسلامی تاریخ میں گویا کہ پہلا انحراف (derailment) تھا۔ اس کے بعد جب بیسویں صدی عیسوی میں اسلام کی سیاسی تعبیر کی گئی تو یہ کامل طور پر دعوتی ذہن کے خاتمہ کے ہم معنی تھا۔ بیسویں صدی میں اسلام کی جو سیاسی تعبیر کی گئی، اس کے دو خاص چیمپئن تھے ــــ عرب دنیا میں سید قطب مصری، اور برصغیر ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ اس کے علاوہ، ثانوی درجے میں اس سیاسی تعبیر کے کچھ اور موجدین ہیں۔ مثلاً آیت اللہ خمینی، اسامہ بن لادن، وغیرہ۔

کسی شخص کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی انسان کی نیت پر حملہ کرے یا فتوٰی کی زبان میں اس کے عند اللہ مقبول یا غیر مقبول ہونے کا اعلان کرے۔ لیکن عملی نتیجہ کے اعتبار سے، یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی سیاسی تعبیر دجالی فتنے سے کم نہیں۔ اس عظیم فتنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ غیر اسلام کو اسلام کے نام پر کیا جانے لگاــــ داعی کے لیے اس کا مدعو نفرت کا موضوع بن گیا، تشدد کو ایک مقدس عمل کا درجہ حاصل ہو گیا، خودکش بم باری مسلم انتہا پسندوں کے لیے جنت میں فی الفور داخلے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page