اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
کا ذریعہ قرار پائی، خدا پرستی اسلام عملاً سیاست رخی اسلام بن گیا، کمیونسٹ اخلاقیات کو اسلامائز کر کے اس کو اسلام میں داخل کر لیا گیا، لوگوں کی جنت کے حریص بننے والے، لوگوں کی ہلاکت کے حریص بن گئے، نفرت اور تشدد کے پروپیگنڈے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دعوت کے اعلیٰ مواقع کو استعمال کرنا ممکن نہ رہا، مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) مکمل طور پر ختم ہو گئی، وغیرہ۔ مذکورہ جائزہ بتاتا ہے کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں جو چیز اجنبی بن گئی، وہ اسلام کا دعوتی پہلو تھا۔ اکیسویں صدی میں یہ صورتِ حال اپنے نقطہ انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اسلام کے اس اجنبی پہلو کو دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ اہل اسلام کو دوبارہ تیار کیا جائے کہ وہ دعوت کے نشانہ کو اپنا نشانہ بنائیں۔ وہ دوبارہ اُس دعوتی عمل کو زندہ کریں جو دنیا کی تمام قیمتی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی لوگ اُس اعلیٰ خدائی مبارک باد کے مستحق قرار پائیں گے جس کا ذکر مذکورہ حدیث رسول میں کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues