اسلامی تاریخ کا ایک گم شدہ باب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
شخصیت کی تعمیر
قرآن کی سورہ نمبر 90 میں ارشاد ہوا ہے: لقد خلقنا الإنسان في كبد (البلد : 4) یعنی اللہ نے انسان کو مشقت (toil) میں پیدا کیا۔
قرآن کی اس آیت میں مشقت (کبد) کا لفظ منفی مفہوم (negative sense) میں نہیں آیا ہے، بلکہ وہ مثبت مفہوم (positive sense) میں آیا ہے۔ اس اعتبار سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس سے مراد جدوجہد (struggle) ہے۔
یعنی موجودہ دنیا میں انسان ایسی حالت میں رہتا ہے کہ اس کو زندگی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، وہ سخت محنت کے کورس سے گزرتا ہے۔ یہ انسانی شخصیت کی مثبت تعمیر کے لیے ضروری ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سہولت نہیں، بلکہ کوشش، آسانی نہیں، بلکہ مشکل وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے:
It is not ease but effort, not facility but difficulty that make men. انسان ابتدائی طور پر خام لوہا (ore) کے مانند ہے۔ لوہے سے مشین بنتی ہے، لیکن اس کے لیے لمبا عمل (process) درکار ہوتا ہے۔ خام لوہے کو آگ کی بھٹی سے گزرنا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ سٹیل بنتا ہے، پھر مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد وہ مشین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان امکانی طور پر اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن اپنے فطری امکانات کو واقعۂ بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے سخت مراحل سے گزرے۔ اُنھیں مراحل کے درمیان اس کا ذہنی ارتقاء ہوتا ہے، اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو پختگی (maturity) کہا جاتا ہے۔ زندگی کے سخت مراحل سے گزرے بغیر کوئی شخص اعلیٰ انسان نہیں بنتا۔ اس دنیا میں ہر مشکل ایک چیلنج (challenge) ہے۔ یہ دراصل چیلنج ہی ہے جس کا سامنا کرنے کے بعد انسان اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues