ذکر کیا ہے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵
ذکر کیا ہے
مولانا عبد الماجد دریا آبادی (وفات: 1977) نے قرآن کی آیت: فاذکرونی، اذکرکم (البقرہ: 152) کی تشریح کے تحت اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
”ابو بکر جصاص رازی (وفات: 370ھ) نے ذکر سے مراد لیا ہے۔ آیات الہیٰ اور ان کی عظمت و قدرت کا تفکر، اور اسی کو سارے اذکار سے افضل اور ان کی اصل قرار دیا ہے (وذکرہ بالفکر فی دلائلہ وآياته وقدرته وعظمته. وهو أفضل سائر وجوه الذكر مبنية عليه وتابعة له احكام القرآن (1/112)۔
اصل یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا تصور ہم موجودہ دنیا میں صرف اللہ کی صفات کے اُن مظاہر کے ذریعے کرتے ہیں جو ہمارے وجود میں اور کائنات میں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہرِ فطرت میں تدبر کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ذکر، اللہ کے اسمِ ذات کی لفظی تکرار کا نام نہیں ہے۔ ذکر یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی مظاہر میں غور کیا جائے، تخلیقی کمالات کے ذریعے اللہ کی عظمت کو دریافت کیا جائے۔ یہی ذکر ہے اور اسی ذکر کے ذریعے کسی انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم خدا کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، البتہ ہم خدا کی تخلیقات میں ضرور اس کی جھلک کو دیکھ سکتے ہیں۔ تخلیقاتِ الہیٰ میں اسی غور و فکر کا نام ذکر ہے، اور اسی کے ذریعے کسی انسان کو وہ اعلیٰ درجہ ایمان نصیب ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ ذات الہیٰ کا مشاہدہ کرنے کی کوشش انسان کو یا تو وجد (ecstasy) تک پہنچاتی ہے، یا کنفیوژن (confusion) تک، اور یہ دونوں ہی بلاشبہ غیر مطلوب ہیں— اس معاملے میں اصل مطلوب چیز وہی معرفت ربانی (divine realization) ہے جو تدبر اور تفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues