Al-Risala · November 2010 · page 16

فرد اور جماعت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

فرد اور جماعت

قرآن کی سورہ البقرہ میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله، والله مع الصابرين (2:249) یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے اذن سے بڑے گروہوں پر غالب آئے ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت کی طاقت فرد سے ہوتی ہے، جماعت الگ سے کوئی چیز نہیں۔ جماعت افراد کا مجموعہ ہے۔ جیسے افراد ہوں گے، ویسی جماعت ہوگی۔ اس کی ایک مثال اینٹ سے بنی ہوئی بلڈنگ ہے۔ بلڈنگ کی مضبوطی خود بلڈنگ کے اندر نہیں ہوتی، بلکہ بلڈنگ کی مضبوطی کا تعلق اینٹ سے ہے۔ اینٹیں اگر مضبوط ہوں تو بلڈنگ بھی مضبوط ہوگی۔ اور اینٹیں اگر مضبوط نہ ہوں تو بلڈنگ بھی مضبوط نہیں ہوسکتی۔ یہی معاملہ گروہ یا جماعت کا ہے۔ جماعت کی طاقت عددی معنوں میں اس کے چھوٹے اور بڑے ہونے میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس کے افراد میں ہے۔

ایک جماعت بظاہر بڑی جماعت ہے، لیکن اس کے افراد زیادہ باشعور نہیں، اس کے افراد کے اندر اتحاد کی اسپرٹ نہیں، اس کے افراد کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں، اس کے افراد کے اندر مقصد کے لیے قربانی کا جذبہ نہیں، اس کے افراد کے اندر صبر وتحمل کی صفت نہیں، وغیرہ۔ ایسا گروہ عددی اعتبار سے بظاہر بڑا ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے کمزور ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک اور گروہ کو لیجئے۔ تعداد کے اعتبار سے بظاہر وہ چھوٹا ہے، لیکن اس کے افراد کے اندر شعوری پختگی موجود ہے، اس کے افراد اختلاف کے باوجود متحد رہنا جانتے ہیں، وہ قربانی کے وقت قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، وہ جذبہ تانیت اور رد عمل کی نفسیات سے بچے ہوئے ہیں، وہ ہر حال میں اپنے سردار کی اطاعت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسا گروہ بظاہر چھوٹا ہونے کے باوجود ایک طاقت ور گروہ ہے۔ چناں چہ ایسا ایک چھوٹا گروہ مقابلے کے میدان میں زیادہ بڑے گروہ پر غالب آجائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page