ابتدائی حمد، انتہائی حمد
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷
ابتدائی حمد، انتہائی حمد
رابندر ناتھ ٹیگور (وفات: 1941) مشہور بنگالی مصنف ہیں۔ ان کو 1913 میں لٹریچر کا نوبل پرائز ملا۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے — ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی۔ انتم (آخری) گیت جو میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا۔
ٹیگور نے یہ بات اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں کہی تھی۔ لیکن یہ بات حمدِ الہیٰ کے بارے میں زیادہ درست طور پر صادق آتی ہے۔ ایک مومن جب خدا کو دریافت کرتا ہے تو وہ بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ خدا کی حمد بیان کرے، وہ خدا کی عظمت کے نغمے گائے۔ لیکن اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کی عظمت کا بیان گو یا ایک ان کہی عظمت (untold glory) ہو کر رہ گیا ہے۔
قرآن میں مومن کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ہیں: الحمد للہ رب العالمین ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہی حمد دوبارہ آخرت میں بیان کی جائے گی (وقیل الحمد لله رب العالمين) دونوں میں کیا فرق ہے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں محدودیت (limitations) کی بنا پر ایک مومن صرف ابتدائی حمد بیان کرتا ہے۔ آخرت کی لامحدود دنیا میں مومن کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ خدا کی انتہائی حمد بیان کر سکے۔ موجودہ زندگی میں شخصیتوں کا اور دنیوی موضوعات کا چرچا ہوتا ہے۔ آخرت میں صرف ایک اللہ کی حمد اور کبریائی کا چرچا ہوگا۔ یہ ایک ابدی چرچا ہوگا جو ہمیشہ نئے نئے پہلوؤں کے اعتبار سے جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہو سکے گا۔ اُس وقت مومن کو محسوس ہوگا کہ نئے حالات نے اس کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ اللہ کی ان کہی عظمت (untold glory) کو بیان کرے اور ابدی طور پر اس کو بیان کرتا رہے۔ موجودہ زندگی گویا کہ اسی ربانی صلاحیت کو پیدا کرنے کی تربیت گاہ ہے۔ آخرت میں خدا کی بے پایاں حمد کو بیان کرنا، بلاشبہ ایک عظیم تریں سعادت ہے۔ یہ سعادت صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues