Al-Risala · November 2010 · page 18

نتیجے کو دیکھئے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸

نتیجے کو دیکھئے

غیر نزاعی معاملے میں اصول کا اعتبار کافی ہے، لیکن جو معاملہ دو فریق کے درمیان نزاعی ہو، اس کی نوعیت یکسر مختلف ہو جاتی ہے۔ نزاعی معاملے میں ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کو دیکھا جائے گا، نہ کہ صرف یہ کہ اصول کا تقاضا کیا ہے۔

غیر نزاعی معاملے میں اصول کو اختیار کرنا قابلِ عمل ہوتا ہے، لیکن جب کوئی معاملہ نزاعی معاملہ ہو تو اُس وقت اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ عملی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اقدام کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، آپ کا اقدام معاملے کو صرف بگاڑے گا، وہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوگا۔

زندگی میں پریکٹیکل وزڈم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پریکٹیکل وزڈم کا مطلب ہے— عملی حقائق (practical realities) کا اعتبار کرتے ہوئے فیصلہ کرنا۔ مثلاً ایک نزاعی معاملہ ہے، اس میں بظاہر قانون آپ کے ساتھ ہے، حقوقِ انسانی کے تصورات بھی آپ کی موافقت میں ہیں، اپنے ذاتی خیال کے مطابق، آپ اپنے کو برحق سمجھتے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود عملی صورتِ حال آپ کی موافقت میں نہیں ہے۔ عملی صورتِ حال بتاتی ہے کہ اگر آپ نے اقدام کیا تو نتیجہ امید کے خلاف نکلے گا۔ اس کے بعد نفرت اور تشدد میں اضافہ ہوگا۔ کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا اور مزید مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ ایسی حالت میں اصولی تقاضے کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ عملی تقاضے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ بیشتر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ صرف اصولی پہلو کو دیکھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر اقدام کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جب الٹا نتیجہ برآمد ہوتا ہے تو وہ ایک نئی بے فائدہ مہم شروع کر دیتے ہیں، یعنی شکایت کی مہم، احتجاج کی مہم، جلسوں اور جلوسوں کی مہم، مطالبات کی مہم، وغیرہ۔ اس قسم کی منفی مہم کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ مسئلے کی سنگینی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر معاملہ محدود درجے میں تھا تو اب معاملہ لامحدود درجے تک پہنچ کرنا قابلِ حل بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page