Al-Risala · November 2010 · page 19

دعوتِ طرزِ فکر

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹

دعوتِ طرزِ فکر

مسٹر حمید اللہ حمید ایم اے کشمیری، القرآن مشن (نئی دہلی) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ 23 ستمبر 2010 کو پیروہ ٹاؤن (کشمیر) میں پبلک انٹریکشن (Public Interaction) کے عنوان کے تحت حکومتِ ہند کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اس میں انڈین آرمی کے اعلیٰ افسران اور مقامی مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی مسٹر گر دیپ سنگھ، جنرل کمانڈنگ آفیسر (GCO) اور مسٹر انل پانڈے (بریگیڈیر) تھے۔ حمید اللہ حمید صاحب نے بتایا کہ اس موقع پر ایک کشمیری مسلمان نے اپنا ذاتی تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ ہند نے مسئلہ کشمیر کو تجارت بنا لیا ہے، یہ لوگ اب کشمیر کے نام پر صرف سیاسی تجارت کر رہے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ میں نے بھی قرآن (11:10-61) کے مطابق، ایک تجارت شروع کی ہے۔ اس کے بعد حمید اللہ حمید صاحب پبلک انٹریکشن کے اس پروگرام میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے کر پہنچے۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو مطالعہ کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ انہوں نے مسٹر گر دیپ سنگھ اور مسٹر انل پانڈے کو ترجمہ قرآن کے علاوہ، ہمارے یہاں سے شائع ہونے والی کتاب ’’پرافٹ آف پیس‘‘ مطالعہ کے لیے دی۔ اس کے بعد مسٹر گر دیپ سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حال میں، قرآن برنگ کے اشک و لے کر آپ لوگوں نے کشمیر میں ہنگامہ کیا، جس کے نتیجہ میں یہاں 17 نوجوان ہلاک ہو گئے۔ مسٹر گر دیپ سنگھ نے قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ لوگ قرآن کے نام پر تشدد (violence) کرتے ہیں۔ مجھ کو بتائیے کہ قرآن کی کس آیت میں تشدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سوال پر تمام مسلمان خاموش رہے۔ اگر آدمی کے اندر دعوتی ذہن موجود ہو تو وہ اس قسم کے ہر موقع کو دعوت کے لیے استعمال کرے گا، وہ ایسے موقع پر اللہ کے بندوں کو اللہ کے کلام کا تحفہ پیش کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر آدمی کا ذہن دعوتی طرزِ فکر سے خالی ہو تو اس کو ایسا ہر دعوتی موقع محض ’’سیاست‘‘ کا ایک اسٹیج معلوم ہوگا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو دینے کے لیے اس کے پاس صرف نفرت کا تحفہ ہوگا، نہ کہ محبت کا تحفہ۔ (مولانا محمد ذکوان ندوی)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page