Al-Risala · November 2010 · page 20

جنّات کی حقیقت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰

جنّات کی حقیقت

قرآن کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کے علاوہ ایک اور غیر مرئی مخلوق (invisible being) ہے جس کو جن یا شیطان کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق ، شیطان ہمارا دشمن ہے اور تزئین کے ذریعے وہ ہم کو بہکا تا رہتا ہے۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن میں جس کو شیطان کہا گیا ہے، وہ انسان کے علاوہ کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا۔ یہ دراصل استعارہ (metaphor) کی زبان ہے۔ اس سے مراد خود انسان کے اپنے دماغ کا منفی حصہ (negative part) ہے۔ یہ انسان کے خود اپنے دماغ کی ایک فیکلیٹی ہے جس کو شیطان کہا گیا ہے۔ انسان خود اپنے دماغ کے منفی حصے سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان کے باہر کوئی اور نہیں جو اس کو بہکا کر غلط راستے پر ڈال دے۔

اس دعوے کے ثبوت کے لیے دو میں سے کوئی ایک بنیاد ہونی چاہیے ۔ سائنس کی تحقیق ، یا قرآن کا بیان۔ جہاں تک سائنس کا تعلق ہے، اس معاملے میں سائنس کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موضوع سائنس کے مطالعے کا موضوع ہی نہیں۔ اس معاملے میں کوئی شخص اگر سائنس کا نام لے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ سائنس سے بالکل بے خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ صرف قرآن کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، اور قرآن کا بیان مذکورہ نظریے کے تائید نہیں کرتا۔ قرآن کی سورہ الحجر میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جنات کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق سے پہلے نارس موم (15:27) سے پیدا کیا۔

یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن جس شیطان کا ذکر کر رہا ہے ، اس کی تخلیق انسان سے پہلے ہو چکی تھی ۔ مذکورہ تصور کے مطابق ، انسان کو بہکانے والا عنصر انسان کے ساتھ پیدا ہوا، جب کہ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق ، انسان کو بہکانے والا عنصر انسان کی پیدائش سے پہلے وجود میں آ چکا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page