Al-Risala · November 2010 · page 21

عجز کی طاقت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

عجز کی طاقت

لوگ مظلوم کی طاقت کو جانتے ہیں، لیکن لوگ عاجز کی طاقت کو نہیں جانتے، حالاں کہ عاجز کی طاقت مظلوم کی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے کہ ــــ مظلوم کی آہ سے بچو، کیوں کہ جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے اجابتِ خود اس کے استقبال کے لیے دوڑ پڑتی ہے: بترس از آہ مظلوماں کہ هنگامِ دعا کردن اجابت از درِ حق بهر استقبال می آید مگر مظلومیت سے بھی زیادہ بڑی حقیقت عجز ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی طور پر اپنے عجز کو دریافت کرے، وہ واقعی طور پر اس کا ادراک کر لے کہ خدائے قادرِ مطلق کے مقابلے میں وہ سرتا سر ایک عاجز انسان ہے، تو اس کی زبان سے دعا کا ایسا کلمہ نکلے گا جس کا تحمّل زمین و آسمان بھی نہیں کر سکیں گے۔ وہ کلمہ یہ ہےــــ خدایا، تو نے مجھے عاجز انسان کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اب تو ایسا نہیں کر سکتا کہ تو میرے بارے میں غیر جانب دار (indifferent) ہو جائے۔

عجز کیا ہے۔ عجز حقیقتِ انسانی کی دریافت ہے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی خالق کی نسبت سے، اپنی حیثیت واقعی کو دریافت کر لے۔ عجز سادہ طور پر مسکینی کا نام نہیں، عجز اکتشافِ حقیقت کا نام ہے۔ عجز اپنے آپ میں ایک طاقت ہے۔ عجز خدا کے سامنے سب سے بڑی سفارش ہے۔ عجز کا مطلب اپنے آپ کو عبودیت کے مقام پر کھڑا کرنا ہے، اور بلاشبہ عبدیت سے بڑا کوئی مقام نہیں۔ قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے : واسجد واقترب (96: 14)۔ سجدہ اظہارِ عجز کی آخری صورت ہے۔ عجز بلاشبہ قربتِ خداوندی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جہاں عجز کی آخری حد آجائے، وہاں سے اُس ربانی تجربے کا آغاز ہو جاتا ہے جس کو لقاء رب کہا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کبر (arrogance) آدمی کو خدا سے دور کر دیتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عجز (helplessness) آدمی کو خدا سے قریب کر دینے والا ہےــــ کبر (arrogance) اللہ سے دوری کا ذریعہ ہے، اور عجز (helplessness) اللہ سے قربت کا ذریعہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page