Al-Risala · November 2010 · page 22

استدلال اور بناء استدلال

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲

استدلال اور بناء استدلال

اگر آپ کے بینک اکاؤنٹ میں صرف دس ہزار روپے موجود ہیں اور آپ پچاس ہزار روپے کا چیک لکھ کر کسی کو دے دیں تو ایسا چیک ڈڈ چیک (dud cheque) کہا جائے گا، وہ بینک سے کیش نہ ہو سکے گا۔ کیوں کہ اس چیک کے برابر رقم آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود نہیں۔ یہی معاملہ استدلال کا ہے۔ جب آپ اپنے کسی دعوے پر استدلال قائم کرنا چاہیں تو ضروری ہے کہ اُس کے حق میں ایک تسلیم شدہ بناء استدلال پیشگی طور پر موجود ہو۔ جس استدلال کی پشت پر اس قسم کی مسلّمۂ استدلالی بنیاد موجود نہ ہو، وہ استدلال ایک غیر معقول استدلال (invalid argument) قرار پائے گا، وہ علمی اعتبار سے قابل قبول نہ ہوگا۔ اسی حقیقت کو علماء نے ’’ بناء فاسد علی الفاسد‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال لیجئے۔ کچھ لوگ جو فلسفیانہ طرزِ فکر سے متاثر تھے، انھوں نے یہ کہہ دیا کہ جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں۔

Heaven and hell are states, not localities.

اس استدلال کی پشت پر ضروری بناء استدلال موجود نہیں۔ جہاں تک سائنس کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں کوئی بنیاد (scientific base) فراہم نہیں کرتی۔ اس کے بعد دوسری بناء استدلال (rational base) وہ ہے جو وحیِ خداوندی (divine revelation) میں پائی جائے۔ قرآن وحی خداوندی کا مستند (authentic) مجموعہ ہے، مگر قرآن کے کسی بیان سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس، قرآن بتاتا ہے کہ جنت ویسی ہی ایک دنیا ہوگی، جیسی کہ ہماری موجودہ دنیا (2:25)۔ قرآن کے مطابق، جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی (41:31) اور انسان کی خواہشیں بلاشبہ مادی تسکین چاہتی ہیں، صرف روحانی تسکین نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page