ٹُوٹا ہوا دل
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
ٹُوٹا ہوا دل
ایک صاحب سوشل ورک میں مشغول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اُن لوگوں کی مدد کی جائے جو ٹُوٹے ہوئے دل (broken hearts) کے ساتھ دنیا میں جی رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خدمت کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ پھر انھوں نے یہ شعر پڑھا: دل بدست آورد کہ حج اکبر است از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است میں نے کہا کہ ایک حدیثِ قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: أنا عند المنكسرة قلوبهم (حلية الأولیاء، جلد 2، صفحہ 364) یعنی اللہ ٹُوٹے ہوئے دلوں کے پاس رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے ٹُوٹے ہوئے دل کا تجربہ ہونا، بہت بڑی رحمت ہے۔ کیوں کہ یہ تجربہ اُس کو اللہ کے بہت قریب پہنچادیتا ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ کا تخلیقی پلان تو یہ ہے کہ انسان کے ساتھ دل شکستگی کے واقعات پیش آئیں، تاکہ اس کی ربانی نفسیات جاگے اور اس کو اللہ کی قربت کا تجربہ ہوسکے۔ مگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ٹُوٹے ہوئے دل والے لوگ ہی نہ رہیں، خواہ اس کے نتیجے میں وہ اللہ کی قربت کی اعلیٰ سعادت سے محروم ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیش کش کی کہ ان کو فراخی کی زندگی حاصل ہوجائے۔ آپ نے فرمایا کہ اے میرے رب نہیں، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ کبھی مجھ کو بھوک کا تجربہ ہو، تاکہ میں تیرے سامنے گڑگڑاؤں۔ اور کبھی مجھ کو شکم سیری کا تجربہ ہو، تاکہ میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں (لا ياربّ، ولكن أشبع يوماً وأجوع يوماً۔ فإذا جعتُ تضرّعتُ إليك وذكرتك، وإذا شبعتُ حمدتك وشكرتك)
صحیح طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے معاملے میں لوگوں کو محنت کے راستے پر لایا جائے، اور آخرت کے معاملے میں ان کو جنت اور جہنم کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے— یہی طریقہ اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues