ٹُوٹا ہوا دل
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴
شخصیت کی تعمیر
جنت، انسان کی آخری منزل ہے، اور موجودہ دنیا میں انسان کا واحد نشانہ (goal) یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اُس شخصیت کی تعمیر کرے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ ایمان، عبادت، اخلاقیات (moral values)، دعوت الی اللہ، سب کا اصل مقصد یہی ہے۔ یہی واحد معیار ہے جس پر تمام دینی سرگرمیوں کو جانچنا چاہئے۔
جنت کسی شخص کو اس لیے نہیں ملے گی کہ اُس نے مفروضہ اکابر کا دامن تھام رکھا تھا، یا اُس کو خدا کے برگزیدہ بندوں کی سفارش حاصل ہوگئی، یا وہ کسی ایسے گروہ میں شامل تھا جس کے بارے میں اس نے فرض کر رکھا تھا کہ یہ اللہ کا خاص گروہ ہے، وغیرہ۔ اس طرح کے پراسرار عقائد کا کوئی بھی تعلق جنت کے حصول سے نہیں ہے۔ جولوگ اس طرح کی بات سوچتے ہیں، وہ جنت کی تصغیر کرتے ہیں۔ اُن کونہ جنت کا علم ہے اور نہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا علم۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بے حد نفیس اور کامل دنیا بنائی ہے۔ اسی دنیا کا نام جنت ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی اس لیے ہے کہ امتحان سے گزار کر اُن لوگوں کو منتخب کیا جائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ قیامت سے پہلے کی اس دنیا میں یہی انتخابی عمل جاری ہے۔ جب اللہ کے علم کے مطابق، یہ انتخابی عمل پورا ہو جائے گا تو اس کے فوراً بعد قیامت آجاۓ گی۔ جنتی شخصیت کی تعمیر کیا ہے، اس سے مراد وہ انسان ہے جو اپنے کامل عجز اور اللہ کی کامل قدرت کو دریافت کرے، جو اللہ کی معرفت میں جینے والا بن جائے، جو اپنے اندر اس ذہن کی تعمیر کرے کہ ساری کائنات اُس کے لیے خدائے برتر کا تعارف بن جائے، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے محبت کے جذبات سب سے زیادہ خدا سے وابستہ ہو جائیں اور اس کے خوف کے جذبات کا مرکز صرف ایک اللہ بن جائے، جس کا حال یہ ہو کہ وہ سب سے زیادہ جنت کا طالب ہو اور سب سے زیادہ جہنم سے ڈرنے والا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جو جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues