Al-Risala · November 2010 · page 25

اسلام کا تصور انسانیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵

اسلام کا تصور انسانیت

اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں ہوا۔ اس وقت ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔ اس زمانے کی انسانیت حاکم اور رعایا، راجا اور پرجا میں بٹی ہوئی تھی۔ اسلام نے اعلان کیا کہ نہ کوئی حاکم ہے اور نہ کوئی محکوم، سارے انسان برابر ہیں۔ انسانوں کے درمیان اس قسم کی تقسیم غیر فطری تقسیم ہے۔ اسی طرح سفید فام اور سیاہ فام دونوں یکساں طور پر انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی میں اس قسم کا انقلاب اچانک نہیں آتا، وہ ایک تاریخی عمل (historical process) کے روپ میں آتا ہے۔ اسلام نے پہلی بار اس عمل کو تاریخ میں جاری کیا، پھر دھیرے دھیرے وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو تاریخی مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 632 عیسوی میں اپنے اصحاب کے ساتھ حج ادا کیا۔ اُس وقت آپ عرب کے سیاسی قائد بن چکے تھے۔ آپ نے قائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ آج سے جاہلیت کے تمام رواج ختم کردئے گئے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں، کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے۔

دوسرا واقعہ خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطاب کا ہے۔ حضرت عمر کی خلافت 634 سے 644 تک تھی۔ اُس وقت خلافت کا دائرہ ایشیا سے افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں مصر میں ایک واقعہ ہوا۔ اُس وقت مصر کے گورنر ایک عرب تھے جن کا نام عمرو بن العاص تھا۔ ایک معاملے میں گورنر کے بیٹے محمد بن عمر اور ایک مقامی باشندہ (قبطی) کے درمیان ایک مسئلہ پر نزاع پیدا ہوگئی۔ نزاع بڑھی تو گورنر کے بیٹے نے مصری کو کوڑے سے مار دیا اور کہا کہ: خُذھا، وأنا ابن الأكرمين (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)۔

اس واقعے کے بعد وہ قبطی مصر سے روانہ ہوکر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر بن الخطاب سے اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page