Al-Risala · November 2010 · page 26

اسلام کا تصور انسانیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶

معاملے کی شکایت کی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر نے اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیج کر گورنر اور ان کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا۔ جب وہ دونوں مدینہ آگئے تو معاملے کی تحقیق کے بعد حضرت عمر نے مذکورہ قبطی کے ہاتھ میں ایک کوڑا دیا اور کہا کہ جس نے تم کو مارا ہے، تم بھی اس کو مارو۔ چناں چہ اس نے محمد بن عمرو کو مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس نے انھیں زخمی کر دیا—ان واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے انسانی برابری کے تصور کو عملاً تاریخ میں رائج کیا۔

قرآن کی سورہ النساء میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ —اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ (1: 4)

یہ ایک تاریخی اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان امتیاز کی تمام صورتیں مصنوعی اور غیر فطری ہیں ۔ جب تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوں تو ایک اور دوسرے کے درمیان امتیاز کا کوئی جواز نہیں۔ اسی بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الخلق عيال الله (البيهقي، رقم الحديث: 6947) یعنی تمام انسان ایک خدا کی فیملی ہیں۔ اس حقیقت کی تصدیق موجودہ زمانے میں سائنس کے ذریعے ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں خالص سائنسی ریسرچ کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام انسان ایک ہی جد اعلیٰ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ گویا کہ تمام انسان ایک ہی خونی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ تمام عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے بلڈ بردرنس (blood brothers) اور بلڈ سسٹرس (blood sisters) کی حیثیت رکھتے ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ”تعمیر انسانیت، صفحہ 145) اسلامی شریعت میں حقوق العباد یا ایک انسان کے اوپر دوسرے انسان کے فرائض کے سلسلے میں تفصیلی احکام دئے گئے ہیں۔ اسلام کے مطابق، جس طرح انسان کے اوپر اس کے خالق کا حق ہے، اُسی طرح ایک انسان کے اوپر دوسرے انسان کا بھی حق ہے۔ جو انسان خدا کی عبادت کرے، لیکن وہ انسانوں کے حقوق ادا نہ کرے، اس کی عبادت قبول نہ ہوگی۔ اسلام میں سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page